بلال
چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز مں لایا
ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی
تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لےا
کسی کے شوق مںز تو نے مزے ستم کے لےی
جفا جو عشق مںھ ہوتی ہے وہ جفا ہی نہںڑ
ستم نہ ہو تو محبت مںں کچھ مزا ہی نہںو
نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تری
شراب دید سے بڑھتی تھی اور پااس تری
تجھے نظارے کا مثل کلمب سودا تھا
اویس طاقت دیدار کو ترستا تھا
مدینہ ترتی نگاہوں کا نور تھا گویا
ترے لےظ تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا
تری نظر کو رہی دید مںت بھی حسرت دید
خنک دلے کہ تپید و دمے نا سائد
گری وہ برق تری جان ناشکبام پر
کہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند
ادائے دید سراپا نا ز تھی ترای
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی ترتی
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا





