Translate This Blog

+grab this

Wednesday, April 24, 2013

یہ جو چاہتوں کا سراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے


غزل


یہ جو چاہتوں کا سراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
یہ خمار مثلِ حَباب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
نہیں ماہتابِ چمن تو کیا، مجھے لذتِ شبِ تار کو
یہ چراغ ہے وہ سحاب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
رہِ دشتِ کرب و بلا کو اب ذرا دیکھ حدِ نگاہ تک
وہ جو دودِ رنگِ گلاب ہے ترا خوا ب ہے مرا خواب ہے
جو نفَس نفَس مری دھڑکنوں کے رَباب سے ہے ملا ہوا
جو سرورِ موجِ شراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
اُسے پڑھ کے ہی تو قلندروں کو شعورِ عشق و جنوں ملا
جو کتابِ دل کا نصاب ہے ترا خواب ہے مرا خوا ب ہے
یہ سفر بھی اے مرے ہم رکاب ! یہی سمجھ کے گزار دے
یہ جو دشت ہے یہ جو آب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
ترے سیلِ اشکِ رواں کو میں بھی تو اس لیے نہیں روکتا
تری چشمِ نم میں جو تاب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے



ذیشا ن حیدرؔ 
۱۸ اپریل ۲۰۱۳ 

Saturday, March 23, 2013

بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں


بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں

اک میٹھے میٹھے در دکی راحت کہاں سے لائیں

پیا م صبح 

ہرنئے دردکی پوشاک پہن لی میں نے


ہرنئے دردکی پوشاک پہن لی میں نے 
جاں مہذب نہ ہوئی تھی میں برہنہ کیسا

جاگ اٹھا میری انا کے زحم سے میرا شعور



جاگ اٹھا میری انا کے زحم سے میرا شعور
مجھ کو اپنی لغزشوں کے دکھ سے دانائی ملی

ہرفرداپنی خستہ کنی کی دکا ن ہے



ہرفرداپنی خستہ کنی کی دکا ن ہے 
شانوں پر سرہیں جیسے دکھوں کی پٹاریاں

اندرکاوہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی


اندرکاوہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی 
بنتا ہے زیادہ وہ سنورتا ہے زیادہ

تھوڑاساکہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی


تھوڑاساکہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی
موسم ہے کوئی خشک سا برسات سے آگے

سوچاتھا کہ جاں بیچ کے پھردردخریدیں


سوچاتھا کہ جاں بیچ کے پھردردخریدیں
ملتا نہیں بازارکی قیمت سے زیادہ

آخرتو مرے درد کا رشتہ دلوں سے ہے


آخرتو مرے درد کا رشتہ دلوں سے ہے 
چہرے نئے ہیں درد پرانے تلاش لوں

جس کو تم لادوابتاتے تھے


جس کو تم لادوابتاتے تھے
تم اسی درد کی دواٹھہرے

Thursday, March 21, 2013

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے




مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے 
نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے 
واعظ! کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد 
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبی بھی چھوڑ دے

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں




ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 
مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں 
ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی 
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں 

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی





ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی 
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی 
منصور کو ہوا لب گویا پاۂم موت 

عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب عداوت ہے اسے سارے جہاں سے





عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب 
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے 
کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں 
کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے 

نہ آتے ، ہمں اس مںف تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی



نہ آتے ، ہمں  اس مںف تکرار کیا  تھی 
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا  تھی 
تمھارے پاکمی نے سب راز کھولا 
خطا اس مںک بندے کی سرکار کیا  تھی 

Tuesday, March 19, 2013

گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چزا اسے بار بار دیکھ



غزلیات علامہ اقبال

گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چزا اسے بار بار دیکھ
آیا ہے تو جہاں مںل مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
مانا کہ ترای دید کے قابل نہںک ہوں مںک
تو مرکا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
کھولی ہں  ذوق دید نے آنکھںھ تری اگر
ہر رہ گزر مں  نقش کف پائے یار دیکھ

التجائے مسافر (بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی)



  
التجائے مسافر

(بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی) 


فرشتے پڑھتے ہںض جس کو وہ نام ہے تریا 
بڑی جناب تری، فضے عام ہے تریا 
ستارے عشق کے ترتی کشش سے ہں  قائم 
نظام مہر کی صورت نظام ہے تررا 
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی 
مسحم و خضر سے اونچا مقام ہے تررا 
نہاں ہے تریی محبت مںے رنگ محبوبی 
بڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تریا 
اگر ساےہ دلم، داغ لالہ زار تو ام 
و گر کشادہ جبینم، گل بہار تو ام 
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل 
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو 
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے 
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو 
نظر ہے ابر کرم پر ، درخت صحرا ہوں 
کار خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو 
فلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے مںو 
تری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو 
مقام ہم سفروں سے ہوا اس قدر آگے 
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو 
مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے 
کسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کو 
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر 
تری جناب سے ایی  ملے فغاں مجھ کو 
بنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس مںے نے 
چمن مںو پھر نظر آئے وہ آشاکں مجھ کو 
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبںے 
کار جنھوں نے محبت کا راز داں مجھ کو 
وہ شمع بارگہ خاندان مرتضوی 
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو 
نفس سے جس کے کھلی مر ی آرزو کی کلی 
بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو 
دعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمںے 
کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو 
وہ مرھا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشق 
ہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کو 
جلا کے جس کی محبت نے دفتر من و تو 
ہوائے عشس مں  پالا، کان جواں مجھ کو 
ریاض دہر مں  مانند گل رہے خنداں 
کہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو 
شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے! 
یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے! 

کنار راوی



کنار راوی 


سکوت شام مںا محو سرود ہے راوی 
نہ پوچھ مجھ سے جو ہے کتحو  مرے دل کی 
پا م سجدے کا یہ زیر و بم ہوا مجھ کو 
جہاں تمام سواد حرم ہوا مجھ کو 
سر کنارۂ آب رواں کھڑا ہوں مںہ 
خبر نہںو مجھے لکنڑ کہاں کھڑا ہوں مںک 
شراب سرخ سے رنگںی ہوا ہے دامن شام 
لےا ہے پرں فلک دست رعشہ دار مںھ جام 

بچّہ اور شمع



بچّہ اور شمع


کیّآ حربانی ہے یہ اے طفلک پروانہ خو! 
شمع کے شعلوں کو گھڑیوں دیکھتا رہتا ہے تو 
یہ مری آغوش مںا بٹھےس ہوئے جنبش ہے کار 
روشنی سے کاغ بغل گرںی ہے تر ا مدعا؟ 
اس نظارے سے ترا ننھا سا دل حر ان ہے 

ایک پرندہ اور جگنو




ایک پرندہ اور جگنو 


سر شام ایک مرغ نغمہ پرگا 
کسی ٹہنی پہ بٹھان گا رہا تھا 
چمکتی چزن اک دییھن زمں  پر 
اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر 
کہا جگنو نے او مرغ نوا ریز! 

ابر



ابر 


اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا 
ساھہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا 
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر 
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر 
گرج کا شور نہں  ہے ، خموش ہے یہ گھٹا 
عجب  مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا

داغ



داغ 


عظمت غالب ہے اک مدت سے پوپند زمیں 
مہدی مجروح ہے شہر خموشاں کا مکیں  
توڑ ڈالی موت نے غربت میں  مناےئے امر  
چشم محفل  میں ہے اب تک کفں صہبائے امر 

نیا شوالا



نیا شوالا 


سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے 
تر ے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے 
اپنوں سے برص رکھنا تو نے بتوں سے سکھاا 
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے 
تنگ آ کے مںک نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا 
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے 
پتھر کی مورتوں مںف سمجھا ہے تو خدا ہے 

لاہور و کراچی



لاہور و کراچی 


نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غور 
موت کال شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر 
ان شہدلوں کی دیت اہل کلسا  سے نہ مانگ 

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت



ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

چشتی نے جس زمیں میں پغام حق سنایا 
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا 
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا 
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا 
مر ا وطن وہی ہے ، مرا وطن وہی ہے 
یونانیوں کو جس نے حیر ان کر دیا تھا 
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا 
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا 
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا 
مرکا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے 
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے 
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے 
وحدت کی لے سنی تھی دناھ نے جس مکاں سے 
مرد عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے 
مردا وطن وہی ہے، مرنا وطن وہی ہے 
بندے کلمر جس کے ، پربت جہاں کے سنا  
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا 
رفعت ہے جس زمں  کی بام فلک کا زینا 
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا مں  جناج 
مرتا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے

لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں



صبح کا ستارہ 


لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں 
اور اس خدمت پغام سحر کو چھوڑوں 
مررے حق مںی تو نہںھ تاروں کی بستی اچھی 
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی 
آسماں کار ، عدم آباد وطن ہے مرںا 
صبح کا دامن صد چاک کفن ہے مر ا 
مرحی قسمت مںر ہے ہر روز کا مرنا جناھ 
ساقی موت کے ہاتھوں سے صبوحی پنام 
نہ یہ خدمت، نہ یہ عزت، نہ یہ رفعت اچھی 
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی 
مر ی قدرت مںچ جو ہوتا، تو نہ اختر بنتا 
قعر دریا مںق چمکتا ہوا گوہر بنتا 
واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا 
چھوڑ کر بحر کہںچ زیب گلو ہو جاتا 
ہے چمکنے مں  مزا حسن کا زیور بن کر 
زینت تاج سر  بانوئے قصرگ بن کر 
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا 
خاتم دست سلمارں کا نگںص بن کے رہا 
اییس چزںوں  کا مگر دہر مںا ہے کام شکست 
ہے گہر ہائے گراں مایہ کا انجام شکست 
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل 
کاد وہ جناو ہے کہ ہو جس مں  تقاضائے اجل 
ہے یہ انجام اگر زینت عالم ہو کر 
کودں نہ گر جاؤ ں کسی پھول پہ شبنم ہو کر! 
کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں مںہ رہوں 
کس مظلوم کی آہوں کے شراروں مںے رہوں 
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں مںں 
کوکں نہ اس بوےی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں مں  
ق 
جس کا شوہر ہو رواں، ہو کے زرہ مں  مستور 
سوئے مدوان وغا ، حبِّ وطن سے مجبور 
یاس و امدی کا نظارہ جو دکھلاتی ہو 
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو 
جس کو شوہر کی رضا تاب شکباقئی دے 
اور نگاہوں کو حای طاقت گویائی دے 
زرد ، رخصت کی گھڑی ، عارض گلگوں ہو جائے 
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے 
لاکھ وہ ضبط کرے پر مںو ٹپک ہی جاؤں 
ساغر دیدۂ پرنم سے چھلک ہی جاؤں 
خاک مںہ مل کے حاکت ابدی پا جاؤں 
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں 

Monday, March 18, 2013

جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا



جگنو 


جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا 
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن مںم 
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ 
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن مںم 
یا شب کی سلطنت مںہ دن کا سفرا آیا 
غربت مںب آ کے چمکا، گمنام تھا وطن مںک 
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا 
ذرہ ہے یا نمایاں سورج کے پرنہن مں  
حسن قدیم کی یہ پوشد ہ اک جھلک تھی 
لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن مںک 
چھوٹے سے چاند مںج ہے ظلمت بھی روشنی بھی 
نکلا کبھی گہن سے، آیا کبھی گہن مں  
پروانہ اک پتنگا، جگنو بھی اک پتنگا 
وہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا 
ہر چزش کو جہاں مںا قدرت نے دلبری دی 
پروانے کو تپش دی، جگنو کو روشنی دی 
رنگںن نوا بنایا مرغان بے زباں کو 
گل کو زبان دے کر تعلم  خامشی دی 
نظارۂ شفق کی خوبی زوال مں  تھی 
چمکا کے اس پری کو تھوڑی سی زندگی دی 
رنگں  کای سحر کو، بانکی دلھن کی صورت 
پہنا کے لال جوڑا شبنم کی آرسی دی 
سایہ دیا شجر کو، پرواز دی ہوا کو 
پانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی 
یہ امتیاز لکنک اک بات ہے ہماری 
جگنو کا دن وہی ہے جو رات ہے ہماری 
حسن ازل کی پدکا ہر چز  مں  جھلک ہے 
انساں مںک وہ سخن ہے، غنچے مں  وہ چٹک ہے 
یہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا 
واں چاندنی ہے جو کچھ، یاں درد کی کسک ہے 
انداز گفتگو نے دھوکے دیے ہںا ورنہ 
نغمہ ہے بوئے بلبل، بو پھول کی چہک ہے 
کثرت مں  ہو گاھ ہے وحدت کا راز مخفی 
جگنو مں  جو چمک ہے وہ پھول مںح مہک ہے 
یہ اختلاف پھر کووں ہنگاموں کا محل ہو 
ہر شے مںت جبکہ پنہاں خاموشیِ ازل ہو 


سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا



ترانۂ ہندی 


سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا 
ہم بلبلںں ہںد اس کی، یہ گلستاں ہمارا 
غربت مںں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن مںی 
سمجھو وہں  ہمں  بھی، دل ہو جہاں ہمارا 
پربت وہ سب سے اونچا، ہمسایہ آسماں کا 
وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا 
گودی مںا کھیتاں ہں  اس کی ہزاروں ندیاں 

سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے



سر گزشت آدم


سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے 
بھلایا قصۂ پما ن اولں  مںد نے 
لگی نہ مر ی طبعت  ریاض جنت مںس 
پای شعور کا جب جام آتشںم مںط نے 
رہی حققت  عالم کی جستجو مجھ کو 
دکھایا اوج خا ل فلک نشیں مںج نے 
ملا مزاج تغرا پسند کچھ ایسا 
کاا قرار نہ زیر فلک کہںس مں  نے 
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی 
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں مں  نے 
کبھی مںو ذوق تکلم مں  طور پر پہنچا 
چھپایا نور ازل زیر آستںح مںر نے 
کبھی صلبز پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا 
کاھ فلک کو سفر، چھوڑ کر زمںے مںا نے 
کبھی مںب غار حرا مں  چھپا رہا برسوں 
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں مںو نے 
سنایا ہند مںھ آ کر سرود ربانی 
پسند کی کبھی یوناں کی سر زمںن مںی نے 
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی 
بسایا خطۂ جاپان و ملک چںا مںی نے 
بنایا ذروں کی ترکبم سے کبھی عالم 
خلاف معنی تعلمی اہل دیں مںس نے 
لہو سے لال کا  سنکڑغوں زمنواں کو 
جہاں مںل چھڑ  کے پکاںر عقل و دیں مں  نے 
سمجھ مںل آئی حققتں نہ جب ستاروں کی 
اسی خاآل مں  راتںا گزار دیں مں  نے 
ڈرا سکںل نہ کلسال کی مجھ کو تلواریں 
سکھایا مسئلۂ گردش زمںی مںک نے 
کشش کا راز ہویدا کا  زمانے پر 
لگا کے آئنۂ عقل دور بںز مںی نے 
کاا اسر  شعاعوں کو ، برق مضطر کو 
بنادی غرنت جنت یہ سر زمںی مں  نے 
مگر خبر نہ ملی آہ! راز ہستی کی 
کار خرد سے جہاں کو تہ نگں  مںہ نے 
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر 
تو پایا خانۂ دل مں  اسے مکں  مںی نے 

چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا



بلال 


چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا 
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز مں  لایا 
ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی 
تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی 
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لےا 
کسی کے شوق مںز تو نے مزے ستم کے لےی 
جفا جو عشق مںھ ہوتی ہے وہ جفا ہی نہںڑ 
ستم نہ ہو تو محبت مںں کچھ مزا ہی نہںو 
نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تری 
شراب دید سے بڑھتی تھی اور پااس تری 
تجھے نظارے کا مثل کلمب سودا تھا 
اویس طاقت دیدار کو ترستا تھا 
مدینہ ترتی نگاہوں کا نور تھا گویا 
ترے لےظ تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا 
تری نظر کو رہی دید مںت بھی حسرت دید 
خنک دلے کہ تپید و دمے نا  سائد  
گری وہ برق تری جان ناشکبام پر 
کہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر 
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند 
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند 
ادائے دید سراپا نا ز تھی ترای 
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی ترتی 
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی 
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی 
خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا 
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا

مرنے ویرانے سے کوسوں دور ہے تر ا وطن



چاند 

مرنے ویرانے سے کوسوں دور ہے تر ا وطن 
ہے مگر دریائے دل ترسی کشش سے موجزن 
قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟ 
زرد رو شاید ہوا رنج رہ منزل سے تو 
آفرنشو مںد سراپا نور ، ظلمت ہوں مںے 
اس سہو روزی پہ لکنر ترںا ہم قسمت ہوں مں' 
آہ ، مںش جلتا ہوں سوز اشتا ق دید سے 
تو سراپا سوز داغ منت خورشد  سے 
ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے 
مر ی گردش بھی مثال گردش پرکار ہے 
زندگی کی رہ مں  سرگرداں ہے تو، حرہاں ہوں مںک 
تو فروزاں محفل ہستی مںس ہے ، سوزاں ہوں مںہ 
مں  رہ منزل مںی ہوں، تو بھی رہ منزل مں  ہے 
تر ی محفل مںی جو خاموشی ہے ، مرمے دل مںں ہے 
تو طلب خو ہے تو مرما بھی ییا دستور ہے 
چاندنی ہے نور تراا، عشق مراا نور ہے 
انجمن ہے ایک مرری بھی جہاں رہتا ہوں مںر 
بزم مںہ اپنی اگر یکتا ہے تو، تنہا ہوں مںا 
مہر کا پرتو ترے حق مں  ہے پغایم اجل 
محو کر دیتا ہے مجھ کو جلوۂ حسن ازل 
پھر بھی اے ماہ مبںل! مںل اور ہوں تو اور ہے 
درد جس پہلو مںا اٹھتا ہو وہ پہلو اور ہے 
گرچہ مںپ ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو 
سنکڑ وں منزل ہے ذوق آگہی سے دور تو 
جو مری ہستی کا مقصد ہے ، مجھے معلوم ہے 
یہ چمک وہ ہے، جبںے جس سے تری محروم ہے 

جا بسا مغرب مںب آخر اے مکاں تریا مکںن



نالۂ فراق 
(آرنلڈ کی یاد مںں) 

جا بسا مغرب مںب آخر اے مکاں تریا مکںن 
آہ! مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سر زمںد 
آ گاس آج اس صداقت کا مرے دل کو یں م 
ظلمت شب سے ضا ئے روز فرقت کم نہںد 
''تا ز آغوش وداعش داغ حرقت چدآہ است 
ہمچو شمع کشتہ در چشم نگہ خوابدقہ است'' 
کشتۂ عزلت ہوں، آبادی مں  گھبراتا ہوں مںز 
شہر سے سودا کی شدت مںق نکل جاتا ہوں مں  
یاد ایام سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں مںا 
بہر تسکںو ترلی جانب دوڑتا آتا ہوں مں  
آنکھ گو مانوس ہے تررے در و دیوار سے 
اجنبتگ ہے مگر پدسا مری رفتار سے 
ذرہ مروے دل کا خورشدد آشنا ہونے کو تھا 
آئنہ ٹوٹا ہوا عالم نما ہونے کو تھا 
نخل مروی آرزوؤں کا ہرا ہونے کو تھا 
آہ! کا  جانے کوئی مںک کا  سے کاب ہونے کو تھا 
ابر رحمت دامن از گلزار من برچد  و رفت 
اند کے بر غنچہ ہائے آرزو بارید و رفت 
تو کہاں ہے اے کلمئ ذروۂ سناائے علم 
تی  تری موج نفس باد نشاط افزائے علم 
اب کہاں وہ شوق رہ پمارئی صحرائے علم 
تر ے دم سے تھا ہمارے سر مںم بھی سودائے علم 
''شور لیسے کو کہ باز آرایش سودا کند 
خاک مجنوں را غبار خاطر صحرا کند 
کھول دے گا دشت وحشت عقدۂ تقدیر کو 
توڑ کر پہنچوں گا مں  پنجاب کی زنجرش کو 
دیکھتا ہے دیدۂ حرداں تری تصویر کو 
کاڑ تسلی ہو مگر گرویدۂ تقریر کو 
''تاب گویائی نہںر رکھتا دہن تصویر کا 
خامشی کہتے ہںص جس کو، ہے سخن تصویر کا'' 

نہںن منت کش تاب شند ن داستاں مرںی



تصویر درد


نہںن منت کش تاب شند ن داستاں مرںی 
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں مرںی 
یہ دستور زباں بندی ہے کسات ترری محفل مں  
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں مر ی 
اٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گل نے 
چمن مں  ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں مر ی 
اڑالی قمریوں نے ، طوطوچں نے ، عندلبوں نے 
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں مرےی 
ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے 

مںل نے چاقو تجھ سے چھنار ہے تو چلاتا ہے تو



طفل شیر خوار


مںل نے چاقو تجھ سے چھنار ہے تو چلاتا ہے تو 
مہرباں ہوں مںچ ، مجھے نا مہرباں سمجھا ہے تو 
پھر پڑا روئے گا اے نووارد اقلما غم 
چبھ نہ جائے دیکھنا! ، باریک ہے نوک قلم 
آہ! کو ں دکھ دینے والی شے سے تجھ کو پاےر ہے 
کھل  اس کاغذ کے ٹکڑے سے ، یہ بے آزار ہے 
گند  ہے تر ی کہاں ، چی ب کی بلی ہے کد ھر؟ 
وہ ذرا سا جانور ٹوٹا ہوا ہے جس کا سر 
تر ا آئنہ  تھا آزاد غبار آرزو 
آنکھ کھلتے ہی چمک اٹھا شرار آرزو 
ہاتھ کی جنبش مں  ، طرز دید مںی پوشدکہ ہے 
ترتی صورت آرزو بھی تربی نوزائدکہ ہے 
زندگانی ہے تری آزاد قد  امتیاز 
تردی آنکھوں پر ہویدا ہے مگر قدرت کا راز 
جب کسی شے پر بگڑ کر مجھ سے ، چلاتا ہے تو 
کا  تماشا ہے ردی کاغذ سے من جاتا ہے تو 
آہ! اس عادت مںک ہم آہنگ ہوں مںہ بھی ترا 
تو تلون آشنا ، مںس بھی تلون آشنا 
عارضی لذت کا شد ائی ہوں ، چلاتا ہوں مںز 
جلد آ جاتا ہے غصہ ، جلد من جاتا ہوں مںہ 
مردی آنکھوں کو لبھا لتان ہے حسن ظاہری 
کم نہںج کچھ ترآی نادانی سے نادانی مری 
تر ی صورت گاہ گریاں گاہ خنداں مںہ بھی ہوں 
دیکھنے کو نوجواں ہوں ، طفل ناداں مںں بھی ہوں 

رخصت اے بزم جہاں ( ماخوذ از ایمرسن)



رخصت اے بزم جہاں 
( ماخوذ از ایمرسن) 


رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں مںی 
آہ! اس آباد ویرانے مںت گھبراتا ہوں مں  
بسکہ مں  افسردہ دل ہوں ، درخور محفل نہںں 
تو مرے قابل نہںں ہے ، مں  ترے قابل نہںا 
قد  ہے ، دربار سلطان و شبستان وزیر 
توڑ کر نکلے گا زنجرر طلائی کا اسرا 
گو بڑی لذت تری ہنگامہ آرائی مں  ہے 
اجنبتر سی مگر تریی شناسائی مںہ ہے 
مدتوں تریے خود آراؤں سے ہم صحبت رہا 
مدتوں بے تاب موج بحر کی صورت رہا 
مدتوں بٹھاا ترے ہنگامۂ عشرت مںت مں  
روشنی کی جستجو کرتا رہا ظلمت مںہ مں  
مدتوں ڈھونڈا کاج نظارۂ گل خار مںن 
آہ ، وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار مںا 
چشم حرہاں ڈھونڈتی اب اور نظارے کو ہے 
آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کو ہے 
چھوڑ کر مانند بو ترنا چمن جاتا ہوں مںے 
رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں مںی 
گھر بنایا ہے سکوت دامن کہسار مںت 
آہ! یہ لذت کہاں موسیر  گفتار مں  
ہم نشین نرگس شہلا ، رفقس گل ہوں مں  
ہے چمن مر ا وطن ، ہمسایۂ بلبل ہوں مںس 
شام کو آواز چشموں کی سلاتی ہے مجھے 
صبح فرش سبز سے کوئل جگاتی ہے مجھے 
بزم ہستی مںا ہے سب کو محفل آرائی پسند 
ہے دل شاعر کو لکنئ کنج تنہائی پسند 
ہے جنوں مجھ کو کہ گھبراتا ہوں آبادی مںن مں  
ڈھونڈتا پھرتا ہوں کس کو کوہ کی وادی مںم مںں ؟ 
شوق کس کا سبزہ زاروں مں  پھراتا ہے مجھے 
اور چشموں کے کنارے پر سلاتا ہے مجھے؟ 
طعنہ زن ہے تو کہ شدپا کنج عزلت کا ہوں مںں 
دیکھ اے غافل! پا می بزم قدرت کا ہوں مںہ 
ہم وطن شمشاد کا ، قمری کا مںل ہم راز ہوں 
اس چمن کی خامشی مںت گوش بر آواز ہوں 
کچھ جو سنتا ہوں تو اوروں کو سنانے کے لے  
دیکھتا ہوں کچھ تو اوروں کو دکھانے کے لے  
عاشق عزلت ہے دل ، نازاں ہوں اپنے گھر پہ مں  
خندہ زن ہوں مسند دارا و اسکندر پہ مں 

مضطرب رکھتا ہے مر ا دل بے تاب مجھے



مو ج دریا


مضطرب رکھتا ہے مر ا دل بے تاب مجھے 
عنط ہستی ہے تڑپ صورت سماھب مجھے 
موج ہے نام مرا ، بحر ہے پایاب مجھے 
ہو نہ زنجر  کبھی حلقۂ گرداب مجھے 
آب مں  مثل ہوا جاتا ہے توسن مربا 
خار ماہی سے نہ اٹکا کبھی دامن مرجا 
مںر اچھلتی ہوں کبھی جذب مہ کامل سے 
جوش مںہ سر کو پٹکتی ہوں کبھی ساحل سے 
ہوں وہ رہرو کہ محبت ہے مجھے منزل سے 
کوںں تڑپتی ہوں ، یہ پوچھے کوئی مررے دل سے 
زحمت تنگی دریا سے گریزاں ہوں مںح 
وسعت بحر کی فرقت مں  پریشاں ہوں مںے

قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل



دل 


قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل 
التجائے 'ارنی' سرخی افسانۂ دل 
یا رب اس ساغر لبریز کی مے کا  ہو گی 
جاوۂ ملک بقا ہے خط پماونۂ دل 
ابر رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یا رب! 
جل گئی مزرع ہستی تو اگا دانۂ دل 
حسن کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا 
تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانۂ دل! 
عرش کا ہے کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر 
کس کی منزل ہے الہی! مرا کاشانۂ دل 
اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا 
دل کسی اور کا دیوانہ ، مںا دیوانۂ دل 
تو سمجھتا نہں  اے زاہد ناداں اس کو 
رشک صد سجدہ ہے اک لغزش مستانۂ دل 
خاک کے ڈھیر کو اکسرت بنا دییا ہے 
وہ اثر رکھتی ہے خاکستر پروانۂ دل 
عشق کے دام مںے پھنس کر یہ رہا ہوتا ہے 
برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے

قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں اعضائے قوم



شاعر


قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں  اعضائے قوم 
منزل صنعت کے رہ پماس ہںر دست و پائے قوم 
محفل نظم حکومت ، چہرۂ زیبائے قوم 
شاعر رنگںح نوا ہے دیدۂ بناائے قوم 
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ 
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی


زہد  اور رندی 


اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی 
تز ی نہںب منظور طبعتا کی دکھانی 
شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا 
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی 
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف مںو شریعت 
جس طرح کہ الفاظ مں  مضمر ہوں معانی 
لبریز مۓ زہد سے تھی دل کی صراحی 
تھی تہ مںن کہںے درد خادل ہمہ دانی 
کرتے تھے بالں آپ کرامات کا اپنی 
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی 
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے مںم مرکے 
تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی 
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا 
اقبال ، کہ ہے قمری شمشاد معانی 
پابندی احکام شریعت مںن ہے کسا ؟ 
گو شعر مںہ ہے رشک کلمی ہمدانی 
سنتا ہوں کہ کافر نہں  ہندو کو سمجھتا 
ہے ایسا عقدہہ اثر فلسفہ دانی 
ہے اس کی طبعتد مںد تشعک بھی ذرا سا 
تفضلس علی ہم نے سنی اس کی زبانی 
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات مںہ داخل 
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی 
کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہںگ ہے 
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی 
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت 
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی 
لکنر یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے مں  نے 
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی 
مجموعۂ اضداد ہے ، اقبال نہںج ہے 
دل دفتر حکمت ہے ، طبعتہ خفقانی 
رندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقف 
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی 
اس شخص کی ہم پر تو حققتص نہںت کھلتی 
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی 
القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے 
تا دیر رہی آپ کی یہ نغز با نی 
اس شہر مںر جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب مں  
مں  نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی 
اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد 
پھر چھڑ گئی باتوں مں  وہی بات پرانی 
فرمایا ، شکایت وہ محبت کے سبب تھی 
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی 
مںا نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہںک ہے 
یہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانی 
خم ہے سر تسلمق مرا آپ کے آگے 
پر ی ہے تواضع کے سبب مرکی جوانی 
گر آپ کو معلوم نہں  مر ی حققت  
پد ا نہں  کچھ اس سے قصور ہمہ دانی 
مں  خود بھی نہں  اپنی حققتق کا شناسا 
گہرا ہے مرے بحر خا لات کا پانی 
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ 'اقبال' کو دیکھوں 
کی اس کی جدائی مںھ بہت اشک فشانی 
اقبال بھی 'اقبال' سے آگاہ نہںت ہے 
کچھ اس مںی تمسخر نہںا ، واللہ نہںہ ہے

عشق اور موت ( ماخو ذ از ٹی ہ سن)



عشق اور موت 
( ماخو ذ از ٹی ہ سن) 


سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھی 
تبسم فشاں زندگی کی کلی تھی 
کہںم مہر کو تاج زر مل رہا تھا 
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی 
سہا پرچہن شام کو دے رہے تھے 
ستاروں کو تعلمن تابندگی تھی 
کہںر شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے 
کہںر زندگی کی کلی پھوٹتی تھی 
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا 
ہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھی 
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو 
خودی تشنۂ کام مے بے خودی تھی 
اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی 
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی 
زمںی کو تھا دعوی کہ مںو آسماں ہوں 
مکاں کہہ رہا تھا کہ مںع لا مکاں ہوں 
غرض اس قدر یہ نظارہ تھا پاکرا 
کہ نظارگی ہو سراپا نظارا 
ملک آزماتے تھے پرواز اپنی 
جبنوآں سے نور ازل آشکارا 
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا 
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا 
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابومں کا 
ملک کا ملک اور پارے کا پارا 
پے سرا فردوس کو جا رہا تھا 
قضا سے ملا راہ مںو وہ قضا را 
یہ پوچھا ترا نام کاو ، کام کاا ہے 
نہں  آنکھ کو دید ترکی گوارا 
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ 
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا 
اڑاتی ہوں مںش رخت ہستی کے پرزے 
بجھاتی ہوں مںش زندگی کا شرارا 
مری آنکھ مںک جادوئے نیت ک ہے 
پاھم فنا ہے اسی کا اشارا 
مگر ایک ہستی ہے دنا  مں  اییی 
وہ آتش ہے مںک سامنے اس کے پارا 
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل مں  
وہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تارا 
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو 
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا 
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی 
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا 
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر 
اندھیرے کا ہو نور مں  کا  گزارا! 
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ 
قضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ

پیا م صبح ( ماخوذ از لانگ فلو )



پیا م صبح 
( ماخوذ از لانگ فلو ) 

اجالا جب ہوا رخصت جبنو شب کی افشاں کا 
نسمل زندگی پغابم لائی صبح خنداں کا 
جگایا بلبل رنگںن نوا کو آشالنے مںک 
کنارے کھتہ کے شانہ ہلایا اس نے دہقاں کا 
طلسم ظلمت شب سورۂ والنور سے توڑا 
اندھیرے مں  اڑایا تاج زر شمع شبستاں کا 
پڑھا خوابدشگان دیر پر افسون بدشاری 
برہمن کو دیا پغارم خورشدش درخشاں کا 
ہوئی بام حرم پر آ کے یوں گویا مؤذن سے 
نہںی کھٹکا ترے دل مںک نمود مہر تاباں کا؟ 
پکاری اس طرح دیوار گلشن پر کھڑے ہو کر 
چٹک او غنچۂ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا 
دیا یہ حکم صحرا مں  چلو اے قافلے والو! 
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بایباں کا 
سوئے گور غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے 
تو یوں بولی نظارا دیکھ کر شہر خموشاں کا 
ابھی آرام سے لٹےگ رہو ، مںو پھر بھی آؤں گی 
سلادوں گی جہاں کو خواب سے تم کو جگاؤں گی 

انسان اور بزم قدرت



انسان اور بزم قدرت 


صبح خورشد  درخشاں کو جو دیکھا مں  نے 
بزم معمورۂ ہستی سے یہ پوچھا مںم نے 
پر تو مہر کے دم سے ہے اجالا تر ا 
سم  سا ل ہے پانی ترے دریاؤں کا 
مہر نے نور کا زیور تجھے پہنایا ہے 
ترری محفل کو اسی شمع نے چمکایا ہے 

ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا



ماہ نو 

ٹوٹ کر خورشد  کی کشتی ہوئی غرقاب نلا 
ایک ٹکڑا ترشتا پھرتا ہے روئے آب نلح 
طشت گردوں مںڑ ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب 
نشتر قدرت نے کات کھولی ہے فصد آفتاب 
چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی 
نلخ کے پانی مںی یا مچھلی ہے سمر خام کی 
قافلہ ترلا رواں بے منت بانگ درا 
گوش انساں سن نہںر سکتا تری آواز پا 
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو 
ہے وطن ترنا کدھر ، کس دیس کو جاتا ہے تو 
ساتھ اے ساےرۂ ثابت نما لے چل مجھے 
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے 
نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستی مںب مں  
طفلک سمااب پا ہوں مکتب ہستی مںب مں 

سیدکی لوح تربت اے کہ تردا مرغ جاں تار نفس مںی ہے اسر



سیدکی لوح تربت 


اے کہ تردا مرغ جاں تار نفس مںی ہے اسر  
اے کہ تردی روح کا طائر قفس مںا ہے اسر  
اس چمن کے نغمہ پرااؤں کی آزادی تو دیکھ 
شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ 
فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے ییا 
صبر و استقلال کی کھی   کا حاصل ہے یی  
سنگ تربت ہے مرا گرویدہ تقریر دیکھ 
چشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ 
مدعا ترنا اگر دنا  مںت ہے تعلمک دیں 
ترک دنان قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہںھ 
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لےح اپنی زباں 
چھپ کے ہے بٹھاہ ہوا ہنگامۂ محشر یہاں 
وصل کے اسباب پد ا ہوں تری تحریر سے 
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے 
محفل نو مں  پرانی داستانوں کو نہ چھڑا
رنگ پر جو اب نہ آئںر ان فسانوں کو نہ چھڑہ 
تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن مرکی صدا 
ہے دلر ی دست ارباب سانست کا عصا 
عرض مطلب سے جھجک جانا نہںس زیبا تجھے 
نیک ہے نتک اگر ترںی تو کا  پروا تجھے 
بندۂ مومن کا دل بم  و ریا سے پاک ہے 
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے 
ہو اگر ہاتھوں مں  ترکے خامۂ معجز رقم 
شیشۂ دل ہو اگر تریا مثال جام جم 
پاک رکھ اپنی زباں ، تلمذا رحمانی ہے تو 
ہو نہ جائے دیکھنا ترںی صدا بے آبرو! 
سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے 
خرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے

ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا



ماہ نو 

ٹوٹ کر خورشد  کی کشتی ہوئی غرقاب نلا 
ایک ٹکڑا ترشتا پھرتا ہے روئے آب نلح 
طشت گردوں مںڑ ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب 
نشتر قدرت نے کات کھولی ہے فصد آفتاب 
چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی 
نلخ کے پانی مںی یا مچھلی ہے سمر خام کی 
قافلہ ترلا رواں بے منت بانگ درا 
گوش انساں سن نہںر سکتا تری آواز پا 
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو 
ہے وطن ترنا کدھر ، کس دیس کو جاتا ہے تو 
ساتھ اے ساےرۂ ثابت نما لے چل مجھے 
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے 
نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستی مںب مں  
طفلک سمااب پا ہوں مکتب ہستی مںب مں 

کس زباں سے اے گل پژمردہ تجھ کو گل کہوں



گل پژمردہ


کس زباں سے اے گل پژمردہ تجھ کو گل کہوں 
کس طرح تجھ کو تمنائے دل بلبل کہوں 
تھی کبھی موج صبا گہوارۂ جنباں ترا 
نام تھا صحن گلستاں مںد گل خنداں ترا 
ترمے احساں کا نسم  صبح کو اقرار تھا 
باغ تراے دم سے گویا طبلۂ عطار تھا 
تجھ پہ برساتا ہے شبنم دیدۂ گریاں مرا 
ہے نہاں ترای اداسی مں  دل ویراں مرا 
مر ی بربادی کی ہے چھوٹی سی اک تصویر تو 
خوا ب مرری زندگی تھی جس کی ہے تعبرت تو 
ہمچو نے از نستاےن خود حکایت می کنم 
بشنو اے گل! از جدائی ہا شکایت می کنم

اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو


درد عشق


اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو 
نامحرموں مں  دیکھ نہ ہو آشکار تو 
پنہاں تہ نقاب تری جلوہ گاہ ہے 
ظاہر پرست محفل نو کی نگاہ ہے 
آئی نئی ہوا چمن ہست و بود مں  
اے درد عشق! اب نہںو لذت نمود مں  
ہاں خود نمائولں کی تجھے جستجو نہ ہو 
منت پذیر نالۂ بلبل کا تو نہ ہو! 
خالی شراب عشق سے لالے کا جام ہو 
پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو 
پنہاں درون سنہ  کہںے راز ہو ترا 
اشک جگر گداز نہ غماز ہو ترا 
گویا زبان شاعر رنگںر با ں نہ ہو 
آواز نے مںا شکوۂ فرقت نہاں نہ ہو 
یہ دور نکتہ چں  ہے ، کہںق چھپ کے بیٹھ رہ 
جس دل مںر تو مکںں ہے، وہں  چھپ کے بیٹھ رہ 
غافل ہے تجھ سے حر ت علم آفریدہ دیکھ! 
جویا نہں  تری نگہ نارسد ہ دیکھ 
رہنے دے جستجو مںں خالل بلند کو 
حرنت مں  چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو 
جس کی بہار تو ہو یہ ایسا چمن نہںک 
قابل تری نمود کے یہ انجمن نہںس 
یہ انجمن ہے کشتۂ نظارۂ مجاز 
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز 
ہر دل مے خا ل کی مستی سے چور ہے 
کچھ اور آجکل کے کلمواں کا طور ہے

شورش مخاحنۂ انساں سے بالاتر ہے تو



آفتاب صبح


شورش مخاحنۂ انساں سے بالاتر ہے تو 
زینت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو 
ہو در گوش عروس صبح وہ گوہر ہے تو 
جس پہ سما ئے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو 
صفحۂ ایام سے داغ مداد شب مٹا 
آسماں سے نقش باطل کی طرح کوکب مٹا 
حسن ترسا جب ہوا بام فلک سے جلوہ گر 
آنکھ سے اڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر 
نور سے معمور ہو جاتا ہے دامان نظر 
کھولتی ہے چشم ظاہر کو ضا  تر ی مگر 
ڈھونڈتی ہں  جس کو آنکںا  وہ تماشا چاہے  
چشم باطن جس سے کھل جائے وہ جلوا چاہےآ 
شوق آزادی کے دنا  مںآ نہ نکلے حوصلے 
زندگی بھر قد  زنجرم تعلق مںن رہے 
زیر و بالا ایک ہںج ترلی نگاہوں کے لےے 
آرزو ہے کچھ اسی چشم تماشا کی مجھے 
آنکھ مر ی اور کے غم مںں سرشک آباد ہو 
امتیاز ملت و آئںر سے دل آزاد ہو 
بستۂ رنگ خصوصتا نہ ہو مرلی زباں 
نوع انساں قوم ہو مر ی ، وطن مررا جہاں 
دیدۂ باطن پہ راز نظم قدرت ہو عامں 
ہو شناسائے فلک شمع تخلط کا دھواں 
عقدۂ اضداد کی کاوش نہ تڑپائے مجھے 
حسن عشق انگزل ہر شے مںک نظر آئے مجھے 
صدمہ آ جائے ہوا سے گل کی پتی کو اگر 
اشک بن کر مرہی آنکھوں سے ٹپک جائے اثر 
دل مںن ہو سوز محبت کا وہ چھوٹا سا شرر 
نور سے جس کے ملے راز حققت  کی خبر 
شاہد قدرت کا آئنہر ہو ، دل مر ا نہ ہو 
سر مںق جز ہمدردی انساں کوئی سودا نہ ہو 
تو اگر زحمت کش ہنگامۂ عالم نہںں 
یہ فضیلت کا نشاں اے نرن اعظم نہں  
اپنے حسن عالم آرا سے جو تو محرم نہںن 
ہمسر یک ذرۂ خاک در آدم نہںک 
نور مسجود ملک گرم تماشا ہی رہا 
اور تو منت پذیر صبح فردا ہی رہا 
آرزو نور حققت  کی ہمارے دل مں  ہے 
لیزو ذوق طلب کا گھر اسی محمل مںا ہے 
کس قدر لذت کشود عقدۂ مشکل مںر ہے 
لطف صد حاصل ہماری سعی بے حاصل مںں ہے 
درد استفہام سے واقف ترا پہلو نہںم 
جستجوئے راز قدرت کا شناسا تو نہںم

دنا کی محفلوں سے اکتا گاا ہوں یا رب



ایک آرزو


دنا  کی محفلوں سے اکتا گاا ہوں یا رب
کاا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گای ہو 
شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے مر ا 
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو 
مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے مرفی 
دامن مںں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو 
آزاد فکر سے ہوں ، عزلت مںا دن گزاروں 
دناد کے غم کا دل سے کانٹا نکل گاو ہو 
لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں مںو 
چشمے کی شورشوں مںو باجا سا بج رہا ہو 
گل کی کلی چٹک کر پغابم دے کسی کا 
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو 
ہو ہاتھ کا سرھانا سبزے کا ہو بچھونا 
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت مںو وہ ادا ہو 
مانوس اس قدر ہو صورت سے مرںی بلبل 
ننھے سے دل مںہ اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو 
صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں 
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو 
ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ 
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو 
آغوش مںر زمںف کی سویا ہوا ہو سبزہ 
پھر پھر کے جھاڑیوں مں  پانی چمک رہا ہو 
پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی 
جسےی حسنڑ کوئی آئنہھ دیکھتا ہو 
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلھن کو 
سرخی لےا سنہری ہر پھول کی قبا ہو 
راتوں کو چلنے والے رہ جائںس تھک کے جس دم 
امدو ان کی مرتا ٹوٹا ہوا دیا ہو 
بجلی چمک کے ان کو کٹام مری دکھا دے 
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو 
پچھلے پہر کی کوئل ، وہ صبح کی مؤذن 
مںھ اس کا ہم نوا ہوں ، وہ مرصی ہم نوا ہو 
کانوں پہ ہو نہ مرمے دیر و حرم کا احساں 
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو 
پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے 
رونا مرا وضو ہو ، نالہ مری دعا ہو 
اس خامشی مں  جائں  اتنے بلند نالے 
تاروں کے قافلے کو مرمی صدا درا ہو 
ہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دے 
بے ہوش جو پڑے ہںر ، شاید انھںا جگا دے

بزم جہاں مںئ مںآ بیا ہوں اے شمع! دردمند



شمع

بزم جہاں مںئ مںآ بیا ہوں اے شمع! دردمند 
فریاد در گرہ صفت دانۂ سپند 
دی عشق نے حرارت سوز دروں تجھے 
اور گل فروش اشک شفق گوں کاو مجھے 
ہو شمع بزم عشش کہ شمع مزار تو 
ہر حال اشک غم سے رہی ہمکنار تو 
یک بںش تری نظر صفت عاشقان راز 
مر ی نگاہ مایۂ آشوب امتیاز 
کعبے مںں ، بت کدے مںر ہے یکساں تری ضا  
مںب امتیاز دیر و حرم مںہ پھنسا ہوا 
ہے شان آہ کی ترے دود ساوہ مںش 
پوشداہ کوئی دل ہے تری جلوہ گاہ مںہ؟ 
جلتی ہے تو کہ برق تجلی سے دور ہے 
بے درد تر ے سوز کو سمجھے کہ نور ہے 
تو جل رہی ہے اور تجھے کچھ خبر نہںم 
بناج ہے اور سوز دروں پر نظر نہںم 
مںا جوش اضطراب سے سماپب وار بھی 
آگاہ اضطراب دل بے قرار بھی 
تھا یہ بھی کوئی ناز کسی بے نا ز کا 
احساس دے دیا مجھے اپنے گداز کا 
یہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار 
خوابد ہ اس شرر مںھ ہںم آتش کدے ہزار 
یہ امتیاز رفعت و پستی اسی سے ہے 
گل مں  مہک ، شراب مںں مستی اسی سے ہے 
بستان و بلبل و گل و بو ہے یہ آگہی 
اصل کشاکش من و تو ہے یہ آگہی 
صبح ازل جو حسن ہوا دلستان عشق 
آواز 'کن' ہوئی تپش آموز جان عشق 
یہ حکم تھا کہ گلشن 'کن' کی بہار دیکھ 
ایک آنکھ لے کے خواب پریشاں ہزار دیکھ 
مجھ سے خبر نہ پوچھ حجاب وجود کی 
شام فراق صبح تھی مردی نمود کی 
وہ دن گئے کہ قدی سے مں  آشنا نہ تھا 
زیب درخت طور مرا آشاسنہ تھا 
قد ی ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں مںھ 
غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں مں  
یاد وطن فسردگی بے سبب بنی 
شوق نظر کبھی ، کبھی ذوق طلب بنی 
اے شمع! انتہائے فریب خا ل دیکھ 
مسجود ساکنان فلک کا مآل دیکھ 
مضموں فراق کا ہوں ، ثریا نشاں ہوں مںب 
آہنگ طبع ناظم کون و مکاں ہوں مں  
باندھا مجھے جو اس نے تو چاہی مری نمود 
تحریر کر دیا سر دیوان ہست و بود 
گوہر کو مشت خاک مںن رہنا پسند ہے 
بندش اگرچہ سست ہے ، مضموں بلند ہے 
چشم غلط نگر کا یہ سارا قصور ہے 
عالم ظہور جلوۂ ذوق شعور ہے 
یہ سلسلہ زمان و مکاں کا ، کمند ہے 
طوق گلوئے حسن تماشا پسند ہے 
منزل کا اشتانق ہے ، گم کردہ راہ ہوں 
اے شمع ! مں  اسرد فریب نگاہ ہوں 
صا د آپ ، حلقۂ دام ستم بھی آپ 
بام حرم بھی ، طائر بام حرم بھی آپ! 
مںم حسن ہوں کہ عشق سراپا گداز ہوں 
کھلتا نہں  کہ ناز ہوں مںگ یا نایز ہوں 
ہاں ، آشنائے لب ہو نہ راز کہن کہںا 
پھر چھڑ نہ جائے قصۂ دار و رسن کہںا

آفتاب



آفتاب 
(ترجمہ گایتری ) 

اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو 
شر ازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو 
باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا 
ہے سبز تروے دم سے چمن ہست و بود کا 
قائم یہ عرصےوں کا تماشا تجھی سے ہے 
ہر شے مںی زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے 
ہر شے کو تروی جلوہ گری سے ثبات ہے 
تر ا یہ سوز و ساز سراپا حاقت ہے 
وہ آفتاب جس سے زمانے مںو نور ہے 
دل ہے ، خرد ہے ، روح رواں ہے ، شعور ہے 
اے آفتاب ، ہم کو ضاحئے شعور دے 
چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے 
ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو 
یزدان ساکنان نشبک و فراز تو 
تر ا کمال ہستی ہر جاندار مں  
تر ی نمود سلسلۂ کوہسار مںر 
ہر چزد کی حاوت کا پروردگار تو 
زائدزگان نور کا ہے تاجدار تو 
نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری 
آزاد قدا اول و آخر ضای تری 

صدائے درد



صدائے درد 

جل رہا ہوں کل نہں  پڑتی کسی پہلو مجھے 
ہاں ڈبو دے اے محط  آب گنگا تو مجھے 
سرزمںب اپنی قانمت کی نفاق انگزم ہے 
وصل کساپ ، یاں تو اک قرب فراق انگزا ہے 
بدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے غضب 
ایک ہی خرمن کے دانوں مںہ جدائی ہے غضب 
جس کے پھولوں مںن اخوت کی ہوا آئی نہںغ 
اس چمن مںل کوئی لطف نغمہ پراائی نہںغ 
لذت قرب حقیںی پر مٹا جاتا ہوں مںی 
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں مںت 
دانۂ نم خرمن نما ہے شاعر معجز باںں 
ہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں 
حسن ہو کان خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو 
شمع کو جلنے سے کا  مطلب جو محفل ہی نہ ہو 
ذوق گویائی خموشی سے بدلتا کوگں نہں  
مرقے آئنےک سے یہ جوہر نکلتا کوبں نہں  
کب زباں کھولی ہماری لذت گفتار نے! 
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پکاہر نے

عقل و دل



عقل و دل 


عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا 
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں مںک 
ہوں زمںھ پر ، گزر فلک پہ مرا 
دیکھ تو کس قدر رسا ہوں مںپ 
کام دناھ مں  رہبری ہے مرا 
مثل خضر خجستہ پا ہوں مںا 
ہوں مفسر کتاب ہستی کی 
مظہر شان کبریا ہوں مںک 
بوند اک خون کی ہے تو لکن  
غرنت لعل بے بہا ہوں مںو 
دل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہے 
پر مجھے بھی تو دیکھ ، کاے ہوں مں  
راز ہستی کو تو سمجھتی ہے 
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں مںر 
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے 
اور باطن سے آشنا ہوں مںت 
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے 
تو خدا جو ، خدا نما ہوں مں  
علم کی انتہا ہے بے تابی 
اس مرض کی مگر دوا ہوں مںں 
شمع تو محفل صداقت کی 
حسن کی بزم کا دیا ہوں مں  
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا 
طائر سدرہ آشنا ہوں مںہ 
کس بلندی پہ ہے مقام مرا 
عرش رب جللآ کا ہوں مںق! 

شمع و پروانہ



شمع و پروانہ

پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پا ر کواں 
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کو ں 
سمااب وار رکھتی ہے ترںی ادا اسے 
آداب عشق تو نے سکھائے ہںا کای اسے؟ 
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا 
پھونکا ہوا ہے کاہ تری برق نگاہ کا؟ 
آزار موت مںہ اسے آرام جاں ہے کاب؟ 
شعلے مںت ترںے زندگی جاوداں ہے کا ؟ 
غم خانۂ جہاں مںر جو تر ی ضا  نہ ہو 
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو 
گرنا ترے حضور مںل اس کی نماز ہے 
ننھے سے دل مں  لذت سوز و گداز ہے 
کچھ اس مںل جوش عاشق حسن قدیم ہے 
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلمی ہے 
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشنی 
کڑوا ذرا سا ، اور تمنائے روشنی!

خفتگان خاک سے استفسار



خفتگان خاک سے استفسار


مہر روشن چھپ گاس ، اٹھی نقاب روئے شام 
شانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گسوئئے شام 
یہ سہۂ پوشی کی تااری کس کے غم مں  ہے 
محفل قدرت مگر خورشدو کے ماتم مںا ہے 
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر 
ساحر شب کی نظر ہے دیدۂ بدوار پر 
غوطہ زن دریاۓ خاموشی مںو ہے موج ہوا 
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا 
دل کہ ہے بے تابئ الفت مںو دناں سے نفور 
کھنچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دور 
منظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں مںس 
ہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں مںے 
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے 
اور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے 
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم 
کچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تم 
وہ بھی حرست خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟ 
اور پکا ر عناصر کا تماشا ہے کوئی؟ 
آدمی واں بھی حصار غم مںر ہے محصور کاھ؟ 
اس ولایت مںا بھی ہے انساں کا دل مجبور کاک؟ 
واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کاا؟ 
اس چمن مںل بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کاک؟ 
یاں تو اک مصرع مںی پہلو سے نکل جاتا ہے دل 
شعر کی گرمی سے کا  واں بھی پگل جاتا ہے دل؟ 
رشتہ و پو ند یاں کے جان کا آزار ہںی 
اس گلستاں مںی بھی کاک ایسے نکلےم خار ہںا؟ 
اس جہاں مںم اک معشتی اور سو افتاد ہے 
روح کاں اس دیس مںش اس فکر سے آزاد ہے؟ 
کاح وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟ 
قافلے والے بھی ہںا ، اندیشۂ رہزن بھی ہے؟ 
تنکے چنتے ہںھ و ہاں بھی آشا ں کے واسطے؟ 
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟ 
واں بھی انساں اپنی اصلتہ سے بگا؟نے ہں، کای؟ 
امتیاز ملت و آئںں کے دیوانے ہںے کاگ؟ 
واں بھی کائ فریاد بلبل پر چمن روتا نہںا؟ 
اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا نہںا؟ 
باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟ 
یا رخ بے پردۂ حسن ازل کا نام ہے؟ 
کاغ جہنم معصیت سوزی کی اک ترکب  ہے؟ 
آگ کے شعلوں مں  پنہاں مقصد تادیب ہے؟ 
کا  عوض رفتار کے اس دیس مںد پرواز ہے؟ 
موت کہتے ہںو جسے اہل زمںس ، کا  راز ہے ؟ 
اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے 
علم انساں اس ولایت مںی بھی کاب محدود ہے؟ 
دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور بھی؟ 
'لن ترانی' کہہ رہے ہںہ یا وہاں کے طور بھی؟ 
جستجو مںر ہے وہاں بھی روح کو آرام کاب؟ 
واں بھی انساں ہے قتلی ذوق استفہام کای؟ 
آہ! وہ کشور بھی تارییہ سے کا  معمور ہے؟ 
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے؟ 
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں مںہ ہے 
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں مںے ہے

پرندے کی فریاد



پرندے کی فریاد 
بچو ں کے لےھ 

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا 
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی 
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا 
لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم 
شبنم کے آنسوؤں پر کلو ں کا مسکرانا 
وہ پاکری پا ری صورت ، وہ کامنی سی مورت 
آباد جس کے دم سے تھا مررا آشا نا 
آتی نہںا صدائںآ اس کی مرے قفس مں  
ہوتی مری رہائی اے کاش مروے بس مںم! 
کات بد نصبم ہوں مںر گھر کو ترس رہا ہوں 
ساتھی تو ہںم وطن مںی ، مںر قد  مںم پڑا ہوں 
آئی بہار کلایں پھولوں کی ہنس رہی ہںا 
مںی اس اندھیرے گھر مں  قسمت کو رو رہا ہوں 
اس قدج کا الہی! دکھڑا کسے سناؤں 
ڈر ہے یںکا قفسں مںے مںے غم سے مر نہ جاؤں 
جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گاڑ ہے 
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے 
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے 
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے 
آزاد مجھ کو کر دے ، او قدن کرنے والے! 
مںا بے زباں ہوں قددی ، تو چھوڑ کر دعا لے

ماں کا خواب



ماں کا خواب 
(ماخوذ بچوں کے لےا )

مںں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب 
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب 
یہ دیکھا کہ مں  جا رہی ہوں کہںو 
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہںا 
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال 
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال 
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی 
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی 
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے 
دیے سب کے ہاتھوں مں  جلتے ہوئے 
وہ چپ چاپ تھے آگے پچھے  رواں 
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں 
اسی سوچ مںو تھی کہ مرےا پسر 
مجھے اس جماعت مںس آیا نظر 
وہ پچھے  تھا اور تزآ چلتا نہ تھا 
دیا اس کے ہاتھوں مںز جلتا نہ تھا 
کہا مںے نے پہچان کر ، مرتی جاں! 
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں! 
جدائی مں  رہتی ہوں مں  بے قرار 
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار 
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی 
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی 
جو بچے نے دیکھا مرا پچا و تاب 
دیا اس نے منہ پھر  کر یوں جواب 
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری 
نہںت اس مںت کچھ بھی بھلائی مری 
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا 
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا 
سمجھتی ہے تو ہو گاد کاگ اسے؟ 
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے