Translate This Blog

+grab this
Showing posts with label ذیشا ن حیدرؔ. Show all posts
Showing posts with label ذیشا ن حیدرؔ. Show all posts

Wednesday, April 24, 2013

یہ جو چاہتوں کا سراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے


غزل


یہ جو چاہتوں کا سراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
یہ خمار مثلِ حَباب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
نہیں ماہتابِ چمن تو کیا، مجھے لذتِ شبِ تار کو
یہ چراغ ہے وہ سحاب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
رہِ دشتِ کرب و بلا کو اب ذرا دیکھ حدِ نگاہ تک
وہ جو دودِ رنگِ گلاب ہے ترا خوا ب ہے مرا خواب ہے
جو نفَس نفَس مری دھڑکنوں کے رَباب سے ہے ملا ہوا
جو سرورِ موجِ شراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
اُسے پڑھ کے ہی تو قلندروں کو شعورِ عشق و جنوں ملا
جو کتابِ دل کا نصاب ہے ترا خواب ہے مرا خوا ب ہے
یہ سفر بھی اے مرے ہم رکاب ! یہی سمجھ کے گزار دے
یہ جو دشت ہے یہ جو آب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
ترے سیلِ اشکِ رواں کو میں بھی تو اس لیے نہیں روکتا
تری چشمِ نم میں جو تاب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے



ذیشا ن حیدرؔ 
۱۸ اپریل ۲۰۱۳