Translate This Blog

+grab this
Showing posts with label غزلیات علامہ اقبال. Show all posts
Showing posts with label غزلیات علامہ اقبال. Show all posts

Thursday, March 21, 2013

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے




مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے 
نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے 
واعظ! کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد 
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبی بھی چھوڑ دے

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں




ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 
مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں 
ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی 
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں 

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی





ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی 
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی 
منصور کو ہوا لب گویا پاۂم موت 

عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب عداوت ہے اسے سارے جہاں سے





عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب 
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے 
کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں 
کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے 

نہ آتے ، ہمں اس مںف تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی



نہ آتے ، ہمں  اس مںف تکرار کیا  تھی 
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا  تھی 
تمھارے پاکمی نے سب راز کھولا 
خطا اس مںک بندے کی سرکار کیا  تھی 

Tuesday, March 19, 2013

گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چزا اسے بار بار دیکھ



غزلیات علامہ اقبال

گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چزا اسے بار بار دیکھ
آیا ہے تو جہاں مںل مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
مانا کہ ترای دید کے قابل نہںک ہوں مںک
تو مرکا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
کھولی ہں  ذوق دید نے آنکھںھ تری اگر
ہر رہ گزر مں  نقش کف پائے یار دیکھ