Translate This Blog

+grab this
Showing posts with label علاّمہ محمّد اقبال. Show all posts
Showing posts with label علاّمہ محمّد اقبال. Show all posts

Tuesday, March 19, 2013

التجائے مسافر (بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی)



  
التجائے مسافر

(بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی) 


فرشتے پڑھتے ہںض جس کو وہ نام ہے تریا 
بڑی جناب تری، فضے عام ہے تریا 
ستارے عشق کے ترتی کشش سے ہں  قائم 
نظام مہر کی صورت نظام ہے تررا 
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی 
مسحم و خضر سے اونچا مقام ہے تررا 
نہاں ہے تریی محبت مںے رنگ محبوبی 
بڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تریا 
اگر ساےہ دلم، داغ لالہ زار تو ام 
و گر کشادہ جبینم، گل بہار تو ام 
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل 
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو 
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے 
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو 
نظر ہے ابر کرم پر ، درخت صحرا ہوں 
کار خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو 
فلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے مںو 
تری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو 
مقام ہم سفروں سے ہوا اس قدر آگے 
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو 
مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے 
کسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کو 
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر 
تری جناب سے ایی  ملے فغاں مجھ کو 
بنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس مںے نے 
چمن مںو پھر نظر آئے وہ آشاکں مجھ کو 
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبںے 
کار جنھوں نے محبت کا راز داں مجھ کو 
وہ شمع بارگہ خاندان مرتضوی 
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو 
نفس سے جس کے کھلی مر ی آرزو کی کلی 
بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو 
دعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمںے 
کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو 
وہ مرھا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشق 
ہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کو 
جلا کے جس کی محبت نے دفتر من و تو 
ہوائے عشس مں  پالا، کان جواں مجھ کو 
ریاض دہر مں  مانند گل رہے خنداں 
کہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو 
شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے! 
یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے! 

ایک پرندہ اور جگنو




ایک پرندہ اور جگنو 


سر شام ایک مرغ نغمہ پرگا 
کسی ٹہنی پہ بٹھان گا رہا تھا 
چمکتی چزن اک دییھن زمں  پر 
اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر 
کہا جگنو نے او مرغ نوا ریز! 

ابر



ابر 


اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا 
ساھہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا 
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر 
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر 
گرج کا شور نہں  ہے ، خموش ہے یہ گھٹا 
عجب  مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا

داغ



داغ 


عظمت غالب ہے اک مدت سے پوپند زمیں 
مہدی مجروح ہے شہر خموشاں کا مکیں  
توڑ ڈالی موت نے غربت میں  مناےئے امر  
چشم محفل  میں ہے اب تک کفں صہبائے امر 

نیا شوالا



نیا شوالا 


سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے 
تر ے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے 
اپنوں سے برص رکھنا تو نے بتوں سے سکھاا 
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے 
تنگ آ کے مںک نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا 
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے 
پتھر کی مورتوں مںف سمجھا ہے تو خدا ہے 

لاہور و کراچی



لاہور و کراچی 


نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غور 
موت کال شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر 
ان شہدلوں کی دیت اہل کلسا  سے نہ مانگ 

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت



ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

چشتی نے جس زمیں میں پغام حق سنایا 
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا 
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا 
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا 
مر ا وطن وہی ہے ، مرا وطن وہی ہے 
یونانیوں کو جس نے حیر ان کر دیا تھا 
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا 
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا 
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا 
مرکا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے 
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے 
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے 
وحدت کی لے سنی تھی دناھ نے جس مکاں سے 
مرد عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے 
مردا وطن وہی ہے، مرنا وطن وہی ہے 
بندے کلمر جس کے ، پربت جہاں کے سنا  
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا 
رفعت ہے جس زمں  کی بام فلک کا زینا 
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا مں  جناج 
مرتا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے

لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں



صبح کا ستارہ 


لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں 
اور اس خدمت پغام سحر کو چھوڑوں 
مررے حق مںی تو نہںھ تاروں کی بستی اچھی 
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی 
آسماں کار ، عدم آباد وطن ہے مرںا 
صبح کا دامن صد چاک کفن ہے مر ا 
مرحی قسمت مںر ہے ہر روز کا مرنا جناھ 
ساقی موت کے ہاتھوں سے صبوحی پنام 
نہ یہ خدمت، نہ یہ عزت، نہ یہ رفعت اچھی 
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی 
مر ی قدرت مںچ جو ہوتا، تو نہ اختر بنتا 
قعر دریا مںق چمکتا ہوا گوہر بنتا 
واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا 
چھوڑ کر بحر کہںچ زیب گلو ہو جاتا 
ہے چمکنے مں  مزا حسن کا زیور بن کر 
زینت تاج سر  بانوئے قصرگ بن کر 
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا 
خاتم دست سلمارں کا نگںص بن کے رہا 
اییس چزںوں  کا مگر دہر مںا ہے کام شکست 
ہے گہر ہائے گراں مایہ کا انجام شکست 
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل 
کاد وہ جناو ہے کہ ہو جس مں  تقاضائے اجل 
ہے یہ انجام اگر زینت عالم ہو کر 
کودں نہ گر جاؤ ں کسی پھول پہ شبنم ہو کر! 
کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں مںہ رہوں 
کس مظلوم کی آہوں کے شراروں مںے رہوں 
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں مںں 
کوکں نہ اس بوےی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں مں  
ق 
جس کا شوہر ہو رواں، ہو کے زرہ مں  مستور 
سوئے مدوان وغا ، حبِّ وطن سے مجبور 
یاس و امدی کا نظارہ جو دکھلاتی ہو 
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو 
جس کو شوہر کی رضا تاب شکباقئی دے 
اور نگاہوں کو حای طاقت گویائی دے 
زرد ، رخصت کی گھڑی ، عارض گلگوں ہو جائے 
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے 
لاکھ وہ ضبط کرے پر مںو ٹپک ہی جاؤں 
ساغر دیدۂ پرنم سے چھلک ہی جاؤں 
خاک مںہ مل کے حاکت ابدی پا جاؤں 
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں 

Monday, March 18, 2013

ایک مکڑا اور مکھی



ایک مکڑا اور مکھی
ماخوذ - بچوں کے لےد

اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا 
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا 
لکنر مری کٹام کی نہ جاگی کبھی قسمت 
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا 
غرووں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہںج ہے 
اپنوں سے مگر چاہے  یوں کھنچ کے نہ رہنا 
آؤ جو مرے گھر مں  تو عزت ہے یہ مرںی 
وہ سامنے سڑرھی ہے جو منظور ہو آنا 
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی 
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا 
اس جال مں  مکھی کبھی آنے کی نہںی ہے 
جو آپ کی سڑیھی پہ چڑھا ، پھر نہںر اترا 
مکڑے نے کہا واہ! فرییک مجھے سمجھے 
تم سا کوئی نادان زمانے مںھ نہ ہو گا 
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ 
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس مںے نںی  تھا 
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے 
ٹھہرو جو مرے گھر مںی تو ہے اس مں  برا کاا! 
اس گھر مںم کئی تم کو دکھانے کی ہںا چز یں 
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹان 
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہںس پردے 
دیواروں کو آئنوبں سے ہے مںی نے سجایا 
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہںس بچھونے 
ہر شخص کو ساماں یہ مسر  نہںب ہوتا 
مکھی نے کہا خر  ، یہ سب ٹھکت ہے لکنں 
مںھ آپ کے گھر آؤں ، یہ امد  نہ رکھنا 
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے 
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہںد سکتا 
مکڑے نے کہا دل مں  سنی بات جو اس کی 
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا 
سو کام خوشامد سے نکلتے ہں  جہاں مںہ 
دیکھو جسے دنال مںں خوشامد کا ہے بندا 
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی ! 
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا 
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت 
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا 
آنکھں  ہںی کہ ہرکے کی چمکتی ہوئی کناتں 
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا 
یہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ صفائی 
پھر اس پہ قاہمت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا 
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیتی 
بولی کہ نہںت آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا 
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا مںو 
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہںو ہوتا 
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے 
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا 
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی 
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا

ہے بلندی سے فلک بوس نشمن مررا



ابر کوہسار


ہے بلندی سے فلک بوس نشمن  مررا 
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن مرنا 
کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن مررا 
شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن مرزا 
کسی وادی مں  جو منظور ہو سونا مجھ کو 
سبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو 
مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے در افشاں ہونا 
ناقۂ شاہد رحمت کا حدی خواں ہونا 
غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا 
رونق بزم جوانان گلستاں ہونا 
بن کے گسوج رخ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں 
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں 
دور سے دیدۂ امدا کو ترساتا ہوں 
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں 
سری کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں 
بالایں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں 
سبزۂ مزرع نوخزا کی امدا ہوں مںک 
زادۂ بحر ہوں پروردۂ خورشدا ہوں مںد 
چشمۂ کوہ کو دی شورش قلزم مںخ نے 
اور پرندوں کو کاب محو ترنم مں  نے 
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم مں  نے 
غنچۂ گل کو دیا ذوق تبسم مں  نے 
فضچ سے مرھے نمونے ہںو شبستانوں کے 
جھونپڑے دامن کہسار مں  دہقانوں کے

Sunday, March 17, 2013

علاّمہ محمّد اقبال ہمالہاے ہمالہ! اے فصلص کشور ہندوستاں

علاّمہ محمّد اقبال


ہمالہ

اے ہمالہ! اے فصلص کشور ہندوستاں
 چومتا ہے تر ی پیشانی کو جھک کر آسماں
 تجھ مںہ کچھ پد0ا نہںو دیرینہ روزی کے نشاں
 تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمااں
 ایک جلوہ تھا کلمس طور سناں کے لےی
 تو تجلی ہے سراپا چشم بناا کے لےی
 امتحان دیدۂ ظاہر مںا کوہستاں ہے تو
 پاسباں اپنا ہے تو ، دیوار ہندستاں ہے تو
 مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
 سوئے خلوت گاہِ دل دامن کش انساں ہے تو
 برف نے باندھی ہے دستار فضیلت ترسے سر
 خندہ زن ہے جو کلاہِ مہر عالم تاب پر
 تردی عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن
 وادیوں مںہ ہں  تری کالی گھٹائںھ خمہے زن 
 چوٹایں ترہی ثریا سے ہںی سرگرم سخن
 تو زمںن پر اور پہنائے فلک ترلا وطن
 چشمۂ  دامن ترا  آئۂہن سارل ہے
 دامن موج ہوا جس کے لےۂ رومال ہے
 ابر کے ہاتھوں مںک رہوار ہوا کے واسطے
 تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
 اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی ، جسے
 دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لےگ
 ہائے کات فرط طرب مں  جھومتا جاتا ہے ابر
 فلئ بے زنجر  کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
 جنبش موج نسم  صبح گہوارہ بنی
 جھومتی ہے نشۂ ہستی مںا ہر گل کی کلی
 یوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
 دست گلچیں کی جھٹک مںھ نے نہںی دییھ  کبھی
 کہہ رہی ہے مر ی خاموشی ہی افسانہ مرا
 کنج خلوت خانۂ  قدرت ہے کاشانہ مرا
 آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
 کوثر و تسنمن کی موجوں کی شرماتی ہوئی
 آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
 سنگ رہ سے گاہ بچتی ، گاہ ٹکراتی ہوئی
 چھڑ تی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو
 اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
 لی م شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
 دامن دل کھیچت ہ ہے آبشاروں کی صدا
 وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
 وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
 کانپتا پھرتا ہے کاک رنگ شفق کہسار پر
 خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
 اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا
 مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
 کچھ بتا اس سد ھی سادی زندگی کا ماجرا
 داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
 ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
 دوڑ پچھے  کی طرف اے گردش ایام تو