Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں اعضائے قوم



شاعر


قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں  اعضائے قوم 
منزل صنعت کے رہ پماس ہںر دست و پائے قوم 
محفل نظم حکومت ، چہرۂ زیبائے قوم 
شاعر رنگںح نوا ہے دیدۂ بناائے قوم 
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ 
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی


زہد  اور رندی 


اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی 
تز ی نہںب منظور طبعتا کی دکھانی 
شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا 
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی 
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف مںو شریعت 
جس طرح کہ الفاظ مں  مضمر ہوں معانی 
لبریز مۓ زہد سے تھی دل کی صراحی 
تھی تہ مںن کہںے درد خادل ہمہ دانی 
کرتے تھے بالں آپ کرامات کا اپنی 
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی 
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے مںم مرکے 
تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی 
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا 
اقبال ، کہ ہے قمری شمشاد معانی 
پابندی احکام شریعت مںن ہے کسا ؟ 
گو شعر مںہ ہے رشک کلمی ہمدانی 
سنتا ہوں کہ کافر نہں  ہندو کو سمجھتا 
ہے ایسا عقدہہ اثر فلسفہ دانی 
ہے اس کی طبعتد مںد تشعک بھی ذرا سا 
تفضلس علی ہم نے سنی اس کی زبانی 
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات مںہ داخل 
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی 
کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہںگ ہے 
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی 
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت 
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی 
لکنر یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے مں  نے 
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی 
مجموعۂ اضداد ہے ، اقبال نہںج ہے 
دل دفتر حکمت ہے ، طبعتہ خفقانی 
رندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقف 
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی 
اس شخص کی ہم پر تو حققتص نہںت کھلتی 
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی 
القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے 
تا دیر رہی آپ کی یہ نغز با نی 
اس شہر مںر جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب مں  
مں  نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی 
اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد 
پھر چھڑ گئی باتوں مں  وہی بات پرانی 
فرمایا ، شکایت وہ محبت کے سبب تھی 
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی 
مںا نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہںک ہے 
یہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانی 
خم ہے سر تسلمق مرا آپ کے آگے 
پر ی ہے تواضع کے سبب مرکی جوانی 
گر آپ کو معلوم نہں  مر ی حققت  
پد ا نہں  کچھ اس سے قصور ہمہ دانی 
مں  خود بھی نہں  اپنی حققتق کا شناسا 
گہرا ہے مرے بحر خا لات کا پانی 
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ 'اقبال' کو دیکھوں 
کی اس کی جدائی مںھ بہت اشک فشانی 
اقبال بھی 'اقبال' سے آگاہ نہںت ہے 
کچھ اس مںی تمسخر نہںا ، واللہ نہںہ ہے

عشق اور موت ( ماخو ذ از ٹی ہ سن)



عشق اور موت 
( ماخو ذ از ٹی ہ سن) 


سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھی 
تبسم فشاں زندگی کی کلی تھی 
کہںم مہر کو تاج زر مل رہا تھا 
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی 
سہا پرچہن شام کو دے رہے تھے 
ستاروں کو تعلمن تابندگی تھی 
کہںر شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے 
کہںر زندگی کی کلی پھوٹتی تھی 
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا 
ہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھی 
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو 
خودی تشنۂ کام مے بے خودی تھی 
اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی 
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی 
زمںی کو تھا دعوی کہ مںو آسماں ہوں 
مکاں کہہ رہا تھا کہ مںع لا مکاں ہوں 
غرض اس قدر یہ نظارہ تھا پاکرا 
کہ نظارگی ہو سراپا نظارا 
ملک آزماتے تھے پرواز اپنی 
جبنوآں سے نور ازل آشکارا 
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا 
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا 
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابومں کا 
ملک کا ملک اور پارے کا پارا 
پے سرا فردوس کو جا رہا تھا 
قضا سے ملا راہ مںو وہ قضا را 
یہ پوچھا ترا نام کاو ، کام کاا ہے 
نہں  آنکھ کو دید ترکی گوارا 
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ 
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا 
اڑاتی ہوں مںش رخت ہستی کے پرزے 
بجھاتی ہوں مںش زندگی کا شرارا 
مری آنکھ مںک جادوئے نیت ک ہے 
پاھم فنا ہے اسی کا اشارا 
مگر ایک ہستی ہے دنا  مں  اییی 
وہ آتش ہے مںک سامنے اس کے پارا 
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل مں  
وہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تارا 
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو 
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا 
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی 
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا 
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر 
اندھیرے کا ہو نور مں  کا  گزارا! 
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ 
قضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ

پیا م صبح ( ماخوذ از لانگ فلو )



پیا م صبح 
( ماخوذ از لانگ فلو ) 

اجالا جب ہوا رخصت جبنو شب کی افشاں کا 
نسمل زندگی پغابم لائی صبح خنداں کا 
جگایا بلبل رنگںن نوا کو آشالنے مںک 
کنارے کھتہ کے شانہ ہلایا اس نے دہقاں کا 
طلسم ظلمت شب سورۂ والنور سے توڑا 
اندھیرے مں  اڑایا تاج زر شمع شبستاں کا 
پڑھا خوابدشگان دیر پر افسون بدشاری 
برہمن کو دیا پغارم خورشدش درخشاں کا 
ہوئی بام حرم پر آ کے یوں گویا مؤذن سے 
نہںی کھٹکا ترے دل مںک نمود مہر تاباں کا؟ 
پکاری اس طرح دیوار گلشن پر کھڑے ہو کر 
چٹک او غنچۂ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا 
دیا یہ حکم صحرا مں  چلو اے قافلے والو! 
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بایباں کا 
سوئے گور غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے 
تو یوں بولی نظارا دیکھ کر شہر خموشاں کا 
ابھی آرام سے لٹےگ رہو ، مںو پھر بھی آؤں گی 
سلادوں گی جہاں کو خواب سے تم کو جگاؤں گی 

انسان اور بزم قدرت



انسان اور بزم قدرت 


صبح خورشد  درخشاں کو جو دیکھا مں  نے 
بزم معمورۂ ہستی سے یہ پوچھا مںم نے 
پر تو مہر کے دم سے ہے اجالا تر ا 
سم  سا ل ہے پانی ترے دریاؤں کا 
مہر نے نور کا زیور تجھے پہنایا ہے 
ترری محفل کو اسی شمع نے چمکایا ہے 

ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا



ماہ نو 

ٹوٹ کر خورشد  کی کشتی ہوئی غرقاب نلا 
ایک ٹکڑا ترشتا پھرتا ہے روئے آب نلح 
طشت گردوں مںڑ ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب 
نشتر قدرت نے کات کھولی ہے فصد آفتاب 
چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی 
نلخ کے پانی مںی یا مچھلی ہے سمر خام کی 
قافلہ ترلا رواں بے منت بانگ درا 
گوش انساں سن نہںر سکتا تری آواز پا 
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو 
ہے وطن ترنا کدھر ، کس دیس کو جاتا ہے تو 
ساتھ اے ساےرۂ ثابت نما لے چل مجھے 
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے 
نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستی مںب مں  
طفلک سمااب پا ہوں مکتب ہستی مںب مں 

سیدکی لوح تربت اے کہ تردا مرغ جاں تار نفس مںی ہے اسر



سیدکی لوح تربت 


اے کہ تردا مرغ جاں تار نفس مںی ہے اسر  
اے کہ تردی روح کا طائر قفس مںا ہے اسر  
اس چمن کے نغمہ پرااؤں کی آزادی تو دیکھ 
شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ 
فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے ییا 
صبر و استقلال کی کھی   کا حاصل ہے یی  
سنگ تربت ہے مرا گرویدہ تقریر دیکھ 
چشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ 
مدعا ترنا اگر دنا  مںت ہے تعلمک دیں 
ترک دنان قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہںھ 
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لےح اپنی زباں 
چھپ کے ہے بٹھاہ ہوا ہنگامۂ محشر یہاں 
وصل کے اسباب پد ا ہوں تری تحریر سے 
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے 
محفل نو مں  پرانی داستانوں کو نہ چھڑا
رنگ پر جو اب نہ آئںر ان فسانوں کو نہ چھڑہ 
تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن مرکی صدا 
ہے دلر ی دست ارباب سانست کا عصا 
عرض مطلب سے جھجک جانا نہںس زیبا تجھے 
نیک ہے نتک اگر ترںی تو کا  پروا تجھے 
بندۂ مومن کا دل بم  و ریا سے پاک ہے 
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے 
ہو اگر ہاتھوں مں  ترکے خامۂ معجز رقم 
شیشۂ دل ہو اگر تریا مثال جام جم 
پاک رکھ اپنی زباں ، تلمذا رحمانی ہے تو 
ہو نہ جائے دیکھنا ترںی صدا بے آبرو! 
سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے 
خرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے