Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

عشق اور موت ( ماخو ذ از ٹی ہ سن)



عشق اور موت 
( ماخو ذ از ٹی ہ سن) 


سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھی 
تبسم فشاں زندگی کی کلی تھی 
کہںم مہر کو تاج زر مل رہا تھا 
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی 
سہا پرچہن شام کو دے رہے تھے 
ستاروں کو تعلمن تابندگی تھی 
کہںر شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے 
کہںر زندگی کی کلی پھوٹتی تھی 
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا 
ہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھی 
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو 
خودی تشنۂ کام مے بے خودی تھی 
اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی 
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی 
زمںی کو تھا دعوی کہ مںو آسماں ہوں 
مکاں کہہ رہا تھا کہ مںع لا مکاں ہوں 
غرض اس قدر یہ نظارہ تھا پاکرا 
کہ نظارگی ہو سراپا نظارا 
ملک آزماتے تھے پرواز اپنی 
جبنوآں سے نور ازل آشکارا 
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا 
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا 
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابومں کا 
ملک کا ملک اور پارے کا پارا 
پے سرا فردوس کو جا رہا تھا 
قضا سے ملا راہ مںو وہ قضا را 
یہ پوچھا ترا نام کاو ، کام کاا ہے 
نہں  آنکھ کو دید ترکی گوارا 
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ 
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا 
اڑاتی ہوں مںش رخت ہستی کے پرزے 
بجھاتی ہوں مںش زندگی کا شرارا 
مری آنکھ مںک جادوئے نیت ک ہے 
پاھم فنا ہے اسی کا اشارا 
مگر ایک ہستی ہے دنا  مں  اییی 
وہ آتش ہے مںک سامنے اس کے پارا 
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل مں  
وہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تارا 
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو 
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا 
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی 
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا 
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر 
اندھیرے کا ہو نور مں  کا  گزارا! 
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ 
قضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ

0 comments:

Post a Comment