Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا



ماہ نو 

ٹوٹ کر خورشد  کی کشتی ہوئی غرقاب نلا 
ایک ٹکڑا ترشتا پھرتا ہے روئے آب نلح 
طشت گردوں مںڑ ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب 
نشتر قدرت نے کات کھولی ہے فصد آفتاب 
چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی 
نلخ کے پانی مںی یا مچھلی ہے سمر خام کی 
قافلہ ترلا رواں بے منت بانگ درا 
گوش انساں سن نہںر سکتا تری آواز پا 
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو 
ہے وطن ترنا کدھر ، کس دیس کو جاتا ہے تو 
ساتھ اے ساےرۂ ثابت نما لے چل مجھے 
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے 
نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستی مںب مں  
طفلک سمااب پا ہوں مکتب ہستی مںب مں 

0 comments:

Post a Comment