Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

رخصت اے بزم جہاں ( ماخوذ از ایمرسن)



رخصت اے بزم جہاں 
( ماخوذ از ایمرسن) 


رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں مںی 
آہ! اس آباد ویرانے مںت گھبراتا ہوں مں  
بسکہ مں  افسردہ دل ہوں ، درخور محفل نہںں 
تو مرے قابل نہںں ہے ، مں  ترے قابل نہںا 
قد  ہے ، دربار سلطان و شبستان وزیر 
توڑ کر نکلے گا زنجرر طلائی کا اسرا 
گو بڑی لذت تری ہنگامہ آرائی مں  ہے 
اجنبتر سی مگر تریی شناسائی مںہ ہے 
مدتوں تریے خود آراؤں سے ہم صحبت رہا 
مدتوں بے تاب موج بحر کی صورت رہا 
مدتوں بٹھاا ترے ہنگامۂ عشرت مںت مں  
روشنی کی جستجو کرتا رہا ظلمت مںہ مں  
مدتوں ڈھونڈا کاج نظارۂ گل خار مںن 
آہ ، وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار مںا 
چشم حرہاں ڈھونڈتی اب اور نظارے کو ہے 
آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کو ہے 
چھوڑ کر مانند بو ترنا چمن جاتا ہوں مںے 
رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں مںی 
گھر بنایا ہے سکوت دامن کہسار مںت 
آہ! یہ لذت کہاں موسیر  گفتار مں  
ہم نشین نرگس شہلا ، رفقس گل ہوں مں  
ہے چمن مر ا وطن ، ہمسایۂ بلبل ہوں مںس 
شام کو آواز چشموں کی سلاتی ہے مجھے 
صبح فرش سبز سے کوئل جگاتی ہے مجھے 
بزم ہستی مںا ہے سب کو محفل آرائی پسند 
ہے دل شاعر کو لکنئ کنج تنہائی پسند 
ہے جنوں مجھ کو کہ گھبراتا ہوں آبادی مںن مں  
ڈھونڈتا پھرتا ہوں کس کو کوہ کی وادی مںم مںں ؟ 
شوق کس کا سبزہ زاروں مں  پھراتا ہے مجھے 
اور چشموں کے کنارے پر سلاتا ہے مجھے؟ 
طعنہ زن ہے تو کہ شدپا کنج عزلت کا ہوں مںں 
دیکھ اے غافل! پا می بزم قدرت کا ہوں مںہ 
ہم وطن شمشاد کا ، قمری کا مںل ہم راز ہوں 
اس چمن کی خامشی مںت گوش بر آواز ہوں 
کچھ جو سنتا ہوں تو اوروں کو سنانے کے لے  
دیکھتا ہوں کچھ تو اوروں کو دکھانے کے لے  
عاشق عزلت ہے دل ، نازاں ہوں اپنے گھر پہ مں  
خندہ زن ہوں مسند دارا و اسکندر پہ مں 

مضطرب رکھتا ہے مر ا دل بے تاب مجھے



مو ج دریا


مضطرب رکھتا ہے مر ا دل بے تاب مجھے 
عنط ہستی ہے تڑپ صورت سماھب مجھے 
موج ہے نام مرا ، بحر ہے پایاب مجھے 
ہو نہ زنجر  کبھی حلقۂ گرداب مجھے 
آب مں  مثل ہوا جاتا ہے توسن مربا 
خار ماہی سے نہ اٹکا کبھی دامن مرجا 
مںر اچھلتی ہوں کبھی جذب مہ کامل سے 
جوش مںہ سر کو پٹکتی ہوں کبھی ساحل سے 
ہوں وہ رہرو کہ محبت ہے مجھے منزل سے 
کوںں تڑپتی ہوں ، یہ پوچھے کوئی مررے دل سے 
زحمت تنگی دریا سے گریزاں ہوں مںح 
وسعت بحر کی فرقت مں  پریشاں ہوں مںے

قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل



دل 


قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل 
التجائے 'ارنی' سرخی افسانۂ دل 
یا رب اس ساغر لبریز کی مے کا  ہو گی 
جاوۂ ملک بقا ہے خط پماونۂ دل 
ابر رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یا رب! 
جل گئی مزرع ہستی تو اگا دانۂ دل 
حسن کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا 
تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانۂ دل! 
عرش کا ہے کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر 
کس کی منزل ہے الہی! مرا کاشانۂ دل 
اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا 
دل کسی اور کا دیوانہ ، مںا دیوانۂ دل 
تو سمجھتا نہں  اے زاہد ناداں اس کو 
رشک صد سجدہ ہے اک لغزش مستانۂ دل 
خاک کے ڈھیر کو اکسرت بنا دییا ہے 
وہ اثر رکھتی ہے خاکستر پروانۂ دل 
عشق کے دام مںے پھنس کر یہ رہا ہوتا ہے 
برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے

قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں اعضائے قوم



شاعر


قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں  اعضائے قوم 
منزل صنعت کے رہ پماس ہںر دست و پائے قوم 
محفل نظم حکومت ، چہرۂ زیبائے قوم 
شاعر رنگںح نوا ہے دیدۂ بناائے قوم 
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ 
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی


زہد  اور رندی 


اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی 
تز ی نہںب منظور طبعتا کی دکھانی 
شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا 
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی 
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف مںو شریعت 
جس طرح کہ الفاظ مں  مضمر ہوں معانی 
لبریز مۓ زہد سے تھی دل کی صراحی 
تھی تہ مںن کہںے درد خادل ہمہ دانی 
کرتے تھے بالں آپ کرامات کا اپنی 
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی 
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے مںم مرکے 
تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی 
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا 
اقبال ، کہ ہے قمری شمشاد معانی 
پابندی احکام شریعت مںن ہے کسا ؟ 
گو شعر مںہ ہے رشک کلمی ہمدانی 
سنتا ہوں کہ کافر نہں  ہندو کو سمجھتا 
ہے ایسا عقدہہ اثر فلسفہ دانی 
ہے اس کی طبعتد مںد تشعک بھی ذرا سا 
تفضلس علی ہم نے سنی اس کی زبانی 
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات مںہ داخل 
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی 
کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہںگ ہے 
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی 
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت 
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی 
لکنر یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے مں  نے 
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی 
مجموعۂ اضداد ہے ، اقبال نہںج ہے 
دل دفتر حکمت ہے ، طبعتہ خفقانی 
رندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقف 
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی 
اس شخص کی ہم پر تو حققتص نہںت کھلتی 
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی 
القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے 
تا دیر رہی آپ کی یہ نغز با نی 
اس شہر مںر جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب مں  
مں  نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی 
اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد 
پھر چھڑ گئی باتوں مں  وہی بات پرانی 
فرمایا ، شکایت وہ محبت کے سبب تھی 
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی 
مںا نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہںک ہے 
یہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانی 
خم ہے سر تسلمق مرا آپ کے آگے 
پر ی ہے تواضع کے سبب مرکی جوانی 
گر آپ کو معلوم نہں  مر ی حققت  
پد ا نہں  کچھ اس سے قصور ہمہ دانی 
مں  خود بھی نہں  اپنی حققتق کا شناسا 
گہرا ہے مرے بحر خا لات کا پانی 
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ 'اقبال' کو دیکھوں 
کی اس کی جدائی مںھ بہت اشک فشانی 
اقبال بھی 'اقبال' سے آگاہ نہںت ہے 
کچھ اس مںی تمسخر نہںا ، واللہ نہںہ ہے

عشق اور موت ( ماخو ذ از ٹی ہ سن)



عشق اور موت 
( ماخو ذ از ٹی ہ سن) 


سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھی 
تبسم فشاں زندگی کی کلی تھی 
کہںم مہر کو تاج زر مل رہا تھا 
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی 
سہا پرچہن شام کو دے رہے تھے 
ستاروں کو تعلمن تابندگی تھی 
کہںر شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے 
کہںر زندگی کی کلی پھوٹتی تھی 
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا 
ہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھی 
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو 
خودی تشنۂ کام مے بے خودی تھی 
اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی 
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی 
زمںی کو تھا دعوی کہ مںو آسماں ہوں 
مکاں کہہ رہا تھا کہ مںع لا مکاں ہوں 
غرض اس قدر یہ نظارہ تھا پاکرا 
کہ نظارگی ہو سراپا نظارا 
ملک آزماتے تھے پرواز اپنی 
جبنوآں سے نور ازل آشکارا 
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا 
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا 
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابومں کا 
ملک کا ملک اور پارے کا پارا 
پے سرا فردوس کو جا رہا تھا 
قضا سے ملا راہ مںو وہ قضا را 
یہ پوچھا ترا نام کاو ، کام کاا ہے 
نہں  آنکھ کو دید ترکی گوارا 
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ 
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا 
اڑاتی ہوں مںش رخت ہستی کے پرزے 
بجھاتی ہوں مںش زندگی کا شرارا 
مری آنکھ مںک جادوئے نیت ک ہے 
پاھم فنا ہے اسی کا اشارا 
مگر ایک ہستی ہے دنا  مں  اییی 
وہ آتش ہے مںک سامنے اس کے پارا 
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل مں  
وہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تارا 
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو 
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا 
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی 
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا 
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر 
اندھیرے کا ہو نور مں  کا  گزارا! 
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ 
قضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ

پیا م صبح ( ماخوذ از لانگ فلو )



پیا م صبح 
( ماخوذ از لانگ فلو ) 

اجالا جب ہوا رخصت جبنو شب کی افشاں کا 
نسمل زندگی پغابم لائی صبح خنداں کا 
جگایا بلبل رنگںن نوا کو آشالنے مںک 
کنارے کھتہ کے شانہ ہلایا اس نے دہقاں کا 
طلسم ظلمت شب سورۂ والنور سے توڑا 
اندھیرے مں  اڑایا تاج زر شمع شبستاں کا 
پڑھا خوابدشگان دیر پر افسون بدشاری 
برہمن کو دیا پغارم خورشدش درخشاں کا 
ہوئی بام حرم پر آ کے یوں گویا مؤذن سے 
نہںی کھٹکا ترے دل مںک نمود مہر تاباں کا؟ 
پکاری اس طرح دیوار گلشن پر کھڑے ہو کر 
چٹک او غنچۂ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا 
دیا یہ حکم صحرا مں  چلو اے قافلے والو! 
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بایباں کا 
سوئے گور غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے 
تو یوں بولی نظارا دیکھ کر شہر خموشاں کا 
ابھی آرام سے لٹےگ رہو ، مںو پھر بھی آؤں گی 
سلادوں گی جہاں کو خواب سے تم کو جگاؤں گی