Translate This Blog

+grab this

Tuesday, March 19, 2013

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت



ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

چشتی نے جس زمیں میں پغام حق سنایا 
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا 
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا 
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا 
مر ا وطن وہی ہے ، مرا وطن وہی ہے 
یونانیوں کو جس نے حیر ان کر دیا تھا 
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا 
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا 
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا 
مرکا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے 
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے 
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے 
وحدت کی لے سنی تھی دناھ نے جس مکاں سے 
مرد عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے 
مردا وطن وہی ہے، مرنا وطن وہی ہے 
بندے کلمر جس کے ، پربت جہاں کے سنا  
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا 
رفعت ہے جس زمں  کی بام فلک کا زینا 
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا مں  جناج 
مرتا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے

لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں



صبح کا ستارہ 


لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں 
اور اس خدمت پغام سحر کو چھوڑوں 
مررے حق مںی تو نہںھ تاروں کی بستی اچھی 
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی 
آسماں کار ، عدم آباد وطن ہے مرںا 
صبح کا دامن صد چاک کفن ہے مر ا 
مرحی قسمت مںر ہے ہر روز کا مرنا جناھ 
ساقی موت کے ہاتھوں سے صبوحی پنام 
نہ یہ خدمت، نہ یہ عزت، نہ یہ رفعت اچھی 
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی 
مر ی قدرت مںچ جو ہوتا، تو نہ اختر بنتا 
قعر دریا مںق چمکتا ہوا گوہر بنتا 
واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا 
چھوڑ کر بحر کہںچ زیب گلو ہو جاتا 
ہے چمکنے مں  مزا حسن کا زیور بن کر 
زینت تاج سر  بانوئے قصرگ بن کر 
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا 
خاتم دست سلمارں کا نگںص بن کے رہا 
اییس چزںوں  کا مگر دہر مںا ہے کام شکست 
ہے گہر ہائے گراں مایہ کا انجام شکست 
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل 
کاد وہ جناو ہے کہ ہو جس مں  تقاضائے اجل 
ہے یہ انجام اگر زینت عالم ہو کر 
کودں نہ گر جاؤ ں کسی پھول پہ شبنم ہو کر! 
کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں مںہ رہوں 
کس مظلوم کی آہوں کے شراروں مںے رہوں 
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں مںں 
کوکں نہ اس بوےی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں مں  
ق 
جس کا شوہر ہو رواں، ہو کے زرہ مں  مستور 
سوئے مدوان وغا ، حبِّ وطن سے مجبور 
یاس و امدی کا نظارہ جو دکھلاتی ہو 
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو 
جس کو شوہر کی رضا تاب شکباقئی دے 
اور نگاہوں کو حای طاقت گویائی دے 
زرد ، رخصت کی گھڑی ، عارض گلگوں ہو جائے 
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے 
لاکھ وہ ضبط کرے پر مںو ٹپک ہی جاؤں 
ساغر دیدۂ پرنم سے چھلک ہی جاؤں 
خاک مںہ مل کے حاکت ابدی پا جاؤں 
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں 

Monday, March 18, 2013

جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا



جگنو 


جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا 
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن مںم 
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ 
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن مںم 
یا شب کی سلطنت مںہ دن کا سفرا آیا 
غربت مںب آ کے چمکا، گمنام تھا وطن مںک 
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا 
ذرہ ہے یا نمایاں سورج کے پرنہن مں  
حسن قدیم کی یہ پوشد ہ اک جھلک تھی 
لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن مںک 
چھوٹے سے چاند مںج ہے ظلمت بھی روشنی بھی 
نکلا کبھی گہن سے، آیا کبھی گہن مں  
پروانہ اک پتنگا، جگنو بھی اک پتنگا 
وہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا 
ہر چزش کو جہاں مںا قدرت نے دلبری دی 
پروانے کو تپش دی، جگنو کو روشنی دی 
رنگںن نوا بنایا مرغان بے زباں کو 
گل کو زبان دے کر تعلم  خامشی دی 
نظارۂ شفق کی خوبی زوال مں  تھی 
چمکا کے اس پری کو تھوڑی سی زندگی دی 
رنگں  کای سحر کو، بانکی دلھن کی صورت 
پہنا کے لال جوڑا شبنم کی آرسی دی 
سایہ دیا شجر کو، پرواز دی ہوا کو 
پانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی 
یہ امتیاز لکنک اک بات ہے ہماری 
جگنو کا دن وہی ہے جو رات ہے ہماری 
حسن ازل کی پدکا ہر چز  مں  جھلک ہے 
انساں مںک وہ سخن ہے، غنچے مں  وہ چٹک ہے 
یہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا 
واں چاندنی ہے جو کچھ، یاں درد کی کسک ہے 
انداز گفتگو نے دھوکے دیے ہںا ورنہ 
نغمہ ہے بوئے بلبل، بو پھول کی چہک ہے 
کثرت مں  ہو گاھ ہے وحدت کا راز مخفی 
جگنو مں  جو چمک ہے وہ پھول مںح مہک ہے 
یہ اختلاف پھر کووں ہنگاموں کا محل ہو 
ہر شے مںت جبکہ پنہاں خاموشیِ ازل ہو 


سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا



ترانۂ ہندی 


سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا 
ہم بلبلںں ہںد اس کی، یہ گلستاں ہمارا 
غربت مںں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن مںی 
سمجھو وہں  ہمں  بھی، دل ہو جہاں ہمارا 
پربت وہ سب سے اونچا، ہمسایہ آسماں کا 
وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا 
گودی مںا کھیتاں ہں  اس کی ہزاروں ندیاں 

سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے



سر گزشت آدم


سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے 
بھلایا قصۂ پما ن اولں  مںد نے 
لگی نہ مر ی طبعت  ریاض جنت مںس 
پای شعور کا جب جام آتشںم مںط نے 
رہی حققت  عالم کی جستجو مجھ کو 
دکھایا اوج خا ل فلک نشیں مںج نے 
ملا مزاج تغرا پسند کچھ ایسا 
کاا قرار نہ زیر فلک کہںس مں  نے 
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی 
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں مں  نے 
کبھی مںو ذوق تکلم مں  طور پر پہنچا 
چھپایا نور ازل زیر آستںح مںر نے 
کبھی صلبز پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا 
کاھ فلک کو سفر، چھوڑ کر زمںے مںا نے 
کبھی مںب غار حرا مں  چھپا رہا برسوں 
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں مںو نے 
سنایا ہند مںھ آ کر سرود ربانی 
پسند کی کبھی یوناں کی سر زمںن مںی نے 
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی 
بسایا خطۂ جاپان و ملک چںا مںی نے 
بنایا ذروں کی ترکبم سے کبھی عالم 
خلاف معنی تعلمی اہل دیں مںس نے 
لہو سے لال کا  سنکڑغوں زمنواں کو 
جہاں مںل چھڑ  کے پکاںر عقل و دیں مں  نے 
سمجھ مںل آئی حققتں نہ جب ستاروں کی 
اسی خاآل مں  راتںا گزار دیں مں  نے 
ڈرا سکںل نہ کلسال کی مجھ کو تلواریں 
سکھایا مسئلۂ گردش زمںی مںک نے 
کشش کا راز ہویدا کا  زمانے پر 
لگا کے آئنۂ عقل دور بںز مںی نے 
کاا اسر  شعاعوں کو ، برق مضطر کو 
بنادی غرنت جنت یہ سر زمںی مں  نے 
مگر خبر نہ ملی آہ! راز ہستی کی 
کار خرد سے جہاں کو تہ نگں  مںہ نے 
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر 
تو پایا خانۂ دل مں  اسے مکں  مںی نے 

چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا



بلال 


چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا 
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز مں  لایا 
ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی 
تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی 
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لےا 
کسی کے شوق مںز تو نے مزے ستم کے لےی 
جفا جو عشق مںھ ہوتی ہے وہ جفا ہی نہںڑ 
ستم نہ ہو تو محبت مںں کچھ مزا ہی نہںو 
نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تری 
شراب دید سے بڑھتی تھی اور پااس تری 
تجھے نظارے کا مثل کلمب سودا تھا 
اویس طاقت دیدار کو ترستا تھا 
مدینہ ترتی نگاہوں کا نور تھا گویا 
ترے لےظ تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا 
تری نظر کو رہی دید مںت بھی حسرت دید 
خنک دلے کہ تپید و دمے نا  سائد  
گری وہ برق تری جان ناشکبام پر 
کہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر 
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند 
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند 
ادائے دید سراپا نا ز تھی ترای 
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی ترتی 
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی 
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی 
خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا 
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا

مرنے ویرانے سے کوسوں دور ہے تر ا وطن



چاند 

مرنے ویرانے سے کوسوں دور ہے تر ا وطن 
ہے مگر دریائے دل ترسی کشش سے موجزن 
قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟ 
زرد رو شاید ہوا رنج رہ منزل سے تو 
آفرنشو مںد سراپا نور ، ظلمت ہوں مںے 
اس سہو روزی پہ لکنر ترںا ہم قسمت ہوں مں' 
آہ ، مںش جلتا ہوں سوز اشتا ق دید سے 
تو سراپا سوز داغ منت خورشد  سے 
ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے 
مر ی گردش بھی مثال گردش پرکار ہے 
زندگی کی رہ مں  سرگرداں ہے تو، حرہاں ہوں مںک 
تو فروزاں محفل ہستی مںس ہے ، سوزاں ہوں مںہ 
مں  رہ منزل مںی ہوں، تو بھی رہ منزل مں  ہے 
تر ی محفل مںی جو خاموشی ہے ، مرمے دل مںں ہے 
تو طلب خو ہے تو مرما بھی ییا دستور ہے 
چاندنی ہے نور تراا، عشق مراا نور ہے 
انجمن ہے ایک مرری بھی جہاں رہتا ہوں مںر 
بزم مںہ اپنی اگر یکتا ہے تو، تنہا ہوں مںا 
مہر کا پرتو ترے حق مں  ہے پغایم اجل 
محو کر دیتا ہے مجھ کو جلوۂ حسن ازل 
پھر بھی اے ماہ مبںل! مںل اور ہوں تو اور ہے 
درد جس پہلو مںا اٹھتا ہو وہ پہلو اور ہے 
گرچہ مںپ ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو 
سنکڑ وں منزل ہے ذوق آگہی سے دور تو 
جو مری ہستی کا مقصد ہے ، مجھے معلوم ہے 
یہ چمک وہ ہے، جبںے جس سے تری محروم ہے