ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
چشتی نے جس زمیں میں پغام حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا
مر ا وطن وہی ہے ، مرا وطن وہی ہے
یونانیوں کو جس نے حیر ان کر دیا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
مرکا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سنی تھی دناھ نے جس مکاں سے
مرد عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
مردا وطن وہی ہے، مرنا وطن وہی ہے
بندے کلمر جس کے ، پربت جہاں کے سنا
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا
رفعت ہے جس زمں کی بام فلک کا زینا
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا مں جناج
مرتا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے






0 comments:
Post a Comment