Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

ایک پہاڑ اور گلہری



ایک پہاڑ اور گلہری

(ماخوذ از ایمرسن) 
(بچوں کے لےہ) 

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے 
تجھے ہو شرم تو پانی مں  جا کے ڈوب مرے 
ذرا سی چزی ہے ، اس پر غرور ، کاے کہنا 
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کا  کہنا! 
خدا کی شان ہے ناچزم چزہ بن بںھیا  
جو بے شعور ہوں یوں باتمزی بن بںھز ب 
تری بساط ہے کا  مریی شان کے آگے 
زمںب ہے پست مری آن بان کے آگے 
جو بات مجھ مں  ہے ، تجھ کو وہ ہے نصبک کہاں 
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں! 
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا 
یہ کچی باتں  ہںن دل سے انھںا نکال ذرا 
جو مں  بڑی نہںک ترںی طرح تو کاا پروا 
نہںم ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا 
ہر ایک چز  سے پدکا خدا کی قدرت ہے 
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے 
بڑا جہان مںہ تجھ کو بنا دیا اس نے 
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے 
قدم اٹھانے کی طاقت نہںا ذرا تجھ مںہ 
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کا  تجھ مں  
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو 
یہ چھالاے ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو 
نہںت ہے چز  نکمی کوئی زمانے مں  
کوئی برا نہںی قدرت کے کارخانے مںی

ایک مکڑا اور مکھی



ایک مکڑا اور مکھی
ماخوذ - بچوں کے لےد

اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا 
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا 
لکنر مری کٹام کی نہ جاگی کبھی قسمت 
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا 
غرووں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہںج ہے 
اپنوں سے مگر چاہے  یوں کھنچ کے نہ رہنا 
آؤ جو مرے گھر مں  تو عزت ہے یہ مرںی 
وہ سامنے سڑرھی ہے جو منظور ہو آنا 
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی 
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا 
اس جال مں  مکھی کبھی آنے کی نہںی ہے 
جو آپ کی سڑیھی پہ چڑھا ، پھر نہںر اترا 
مکڑے نے کہا واہ! فرییک مجھے سمجھے 
تم سا کوئی نادان زمانے مںھ نہ ہو گا 
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ 
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس مںے نںی  تھا 
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے 
ٹھہرو جو مرے گھر مںی تو ہے اس مں  برا کاا! 
اس گھر مںم کئی تم کو دکھانے کی ہںا چز یں 
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹان 
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہںس پردے 
دیواروں کو آئنوبں سے ہے مںی نے سجایا 
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہںس بچھونے 
ہر شخص کو ساماں یہ مسر  نہںب ہوتا 
مکھی نے کہا خر  ، یہ سب ٹھکت ہے لکنں 
مںھ آپ کے گھر آؤں ، یہ امد  نہ رکھنا 
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے 
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہںد سکتا 
مکڑے نے کہا دل مں  سنی بات جو اس کی 
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا 
سو کام خوشامد سے نکلتے ہں  جہاں مںہ 
دیکھو جسے دنال مںں خوشامد کا ہے بندا 
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی ! 
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا 
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت 
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا 
آنکھں  ہںی کہ ہرکے کی چمکتی ہوئی کناتں 
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا 
یہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ صفائی 
پھر اس پہ قاہمت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا 
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیتی 
بولی کہ نہںت آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا 
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا مںو 
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہںو ہوتا 
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے 
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا 
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی 
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا

ہے بلندی سے فلک بوس نشمن مررا



ابر کوہسار


ہے بلندی سے فلک بوس نشمن  مررا 
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن مرنا 
کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن مررا 
شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن مرزا 
کسی وادی مں  جو منظور ہو سونا مجھ کو 
سبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو 
مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے در افشاں ہونا 
ناقۂ شاہد رحمت کا حدی خواں ہونا 
غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا 
رونق بزم جوانان گلستاں ہونا 
بن کے گسوج رخ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں 
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں 
دور سے دیدۂ امدا کو ترساتا ہوں 
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں 
سری کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں 
بالایں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں 
سبزۂ مزرع نوخزا کی امدا ہوں مںک 
زادۂ بحر ہوں پروردۂ خورشدا ہوں مںد 
چشمۂ کوہ کو دی شورش قلزم مںخ نے 
اور پرندوں کو کاب محو ترنم مں  نے 
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم مں  نے 
غنچۂ گل کو دیا ذوق تبسم مں  نے 
فضچ سے مرھے نمونے ہںو شبستانوں کے 
جھونپڑے دامن کہسار مں  دہقانوں کے

Sunday, March 17, 2013

مرزا غالب فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا



مرزا غالب
Allama Mohammad Iqbal, 
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا 
ہے پر مرغ تخلت کی رسائی تا کجا 
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پکرت ترا 
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا 
دید ترفی آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے 
بن کے سوز زندگی ہر شے مں  جو مستور ہے 
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار 
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار 
تر ے فردوس تخلک سے ہے قدرت کی بہار 
تر ی کشت فکر سے اگتے ہںر عالم سبزہ وار 
زندگی مضمر ہے ترری شوخی تحریر مں  
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر مںت 
نطق کو سو ناز ہںا تر ے لب اعجاز پر 
محو حر ت ہے ثریا رفعت پرواز پر 
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر 
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شرراز پر 
آہ! تو اجڑی ہوئی دلی مں  آرامدمہ ہے 
گلشن ویمر مںڑ تر ا ہم نوا خوابد ہ ہے 
لطف گویائی مںپ ترمی ہمسری ممکن نہںی 
ہو تخلن کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں 
ہائے! اب کاب ہو گئی ہندوستاں کی سر زمںآ 
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بںو 
گسوےئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے 
شمع یہ سودائی دل سوزیِ  پروانہ ہے 
اے جہان آباد ، اے گہوارۂ علم و ہنر 
ہں  سراپا نالۂ خاموش تروے بام و در 
ذرے ذرے مںس ترے خوابدوہ ہں  شمس و قمر 
یوں تو پوشداہ ہںب تردی خاک مں  لاکھوں گہر 
دفن تجھ مںپ کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے؟ 
تجھ مںھ پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟

عہد طفلی



عہد طفلی


 تھے دیار نو زمنا و آسماں مرہے لےۂ
وسعت آغوش مادر اک جہاں مراے لےس
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں مرمے لےے
حرف بے مطلب تھی خود مرفی زباں مرہے لےہ
درد ، طفلی مںج اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورش زنجری در مںن لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل مںہ بے آواز پا اس کا سفر
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حر ت دروغ مصلحت آمزک پر
آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا مریا ، سراپا ذوق استفسار تھا

گل رنگیں تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہںر



گل رنگیں 


تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہںر 
اے گل رنگں  ترے پہلو مںہ شاید دل نہں  
زیب محفل ہے ، شریک شورش محفل نہںل 
یہ فراغت بزم ہستی مںش مجھے حاصل نہںں 
اس چمن مںغ مَیں سراپا سوز و ساز آرزو 
اور تر ی زندگانی بے گداز آرزو 
توڑ لنام شاخ سے تجھ کو مرا آئںی نہںا 
یہ نظر غرن از نگاہ چشم صورت بں  نہںر 
آہ! یہ دست جفا جو اے گل رنگں  نہں  
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ مںگ گلچیں نہںا 
کام مجھ کو دیدۂ حکمت کے الجھیڑوں سے کا  
دیدۂ بلبل سے مںا کرتا ہوں نظارہ ترا 
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے 
راز وہ کا  ہے ترے سینے مںا جو مستور ہے 
مرزی صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے 
مںز چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے 
مطمئن ہے تو ، پریشاں مثل بو رہتا ہوں مں  
زخمی شمشر  ذوق جستجو رہتا ہوں مں  
یہ پریشانی مری سامان جمعت  نہ ہو 
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو 
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو 
رشک جام جم مرا آئینۂ حرحت نہ ہو 
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے 
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے

علاّمہ محمّد اقبال ہمالہاے ہمالہ! اے فصلص کشور ہندوستاں

علاّمہ محمّد اقبال


ہمالہ

اے ہمالہ! اے فصلص کشور ہندوستاں
 چومتا ہے تر ی پیشانی کو جھک کر آسماں
 تجھ مںہ کچھ پد0ا نہںو دیرینہ روزی کے نشاں
 تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمااں
 ایک جلوہ تھا کلمس طور سناں کے لےی
 تو تجلی ہے سراپا چشم بناا کے لےی
 امتحان دیدۂ ظاہر مںا کوہستاں ہے تو
 پاسباں اپنا ہے تو ، دیوار ہندستاں ہے تو
 مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
 سوئے خلوت گاہِ دل دامن کش انساں ہے تو
 برف نے باندھی ہے دستار فضیلت ترسے سر
 خندہ زن ہے جو کلاہِ مہر عالم تاب پر
 تردی عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن
 وادیوں مںہ ہں  تری کالی گھٹائںھ خمہے زن 
 چوٹایں ترہی ثریا سے ہںی سرگرم سخن
 تو زمںن پر اور پہنائے فلک ترلا وطن
 چشمۂ  دامن ترا  آئۂہن سارل ہے
 دامن موج ہوا جس کے لےۂ رومال ہے
 ابر کے ہاتھوں مںک رہوار ہوا کے واسطے
 تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
 اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی ، جسے
 دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لےگ
 ہائے کات فرط طرب مں  جھومتا جاتا ہے ابر
 فلئ بے زنجر  کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
 جنبش موج نسم  صبح گہوارہ بنی
 جھومتی ہے نشۂ ہستی مںا ہر گل کی کلی
 یوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
 دست گلچیں کی جھٹک مںھ نے نہںی دییھ  کبھی
 کہہ رہی ہے مر ی خاموشی ہی افسانہ مرا
 کنج خلوت خانۂ  قدرت ہے کاشانہ مرا
 آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
 کوثر و تسنمن کی موجوں کی شرماتی ہوئی
 آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
 سنگ رہ سے گاہ بچتی ، گاہ ٹکراتی ہوئی
 چھڑ تی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو
 اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
 لی م شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
 دامن دل کھیچت ہ ہے آبشاروں کی صدا
 وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
 وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
 کانپتا پھرتا ہے کاک رنگ شفق کہسار پر
 خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
 اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا
 مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
 کچھ بتا اس سد ھی سادی زندگی کا ماجرا
 داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
 ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
 دوڑ پچھے  کی طرف اے گردش ایام تو