ایک پہاڑ اور گلہری
(ماخوذ از ایمرسن)
(بچوں کے لےہ)
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی مں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چزی ہے ، اس پر غرور ، کاے کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کا کہنا!
خدا کی شان ہے ناچزم چزہ بن بںھیا
جو بے شعور ہوں یوں باتمزی بن بںھز ب
تری بساط ہے کا مریی شان کے آگے
زمںب ہے پست مری آن بان کے آگے
جو بات مجھ مں ہے ، تجھ کو وہ ہے نصبک کہاں
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتں ہںن دل سے انھںا نکال ذرا
جو مں بڑی نہںک ترںی طرح تو کاا پروا
نہںم ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
ہر ایک چز سے پدکا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے
بڑا جہان مںہ تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے
قدم اٹھانے کی طاقت نہںا ذرا تجھ مںہ
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کا تجھ مں
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالاے ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
نہںت ہے چز نکمی کوئی زمانے مں
کوئی برا نہںی قدرت کے کارخانے مںی





