Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

ہمدردی ( ماخوذ از ولما کو پر ) بچوں کے لےخ



ہمدردی
( ماخوذ از ولما کو پر )
بچوں کے لےخ


ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بٹھاج
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے مںر دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشارں تک
ہر چزں پہ چھا گان اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کڑضا ہوں اگرچہ مںل ذرا سا

کاض غم ہے جو رات ہے اندھیری
مںض راہ مںج روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہںک لوگ وہی جہاں مںر اچھے
آتے ہںے جو کام دوسرں کے

بچے کی دعا



بچے کی دعا
(ما خو ذ)
بچوں کے لےذ

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مر ی
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا مر ی
دور دنات کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ مرےے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی مراے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعفویں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

ایک گائے اور بکری



ایک گائے اور بکری 
(ماخوذ )
بچوں کے لےگ


اک چراگہ ہری بھری تھی کہںج 
تھی سراپا بہار جس کی زمںن 
کای سماں اس بہار کا ہو بایں 
ہر طرف صاف ندیاں تھںہ رواں 
تھے اناروں کے بے شمار درخت 
اور پیپل کے سایہ دار درخت 
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائںت آتی تھںن 
طائروں کی صدائںہ آتی تھںں 
کسی ندی کے پاس اک بکری 
چرتے چرتے کہںل سے آ نکلی 
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا 
پاس اک گائے کو کھڑے پایا 
پہلے جھک کر اسے سلام کاے 
پھر سلقے  سے یوں کلام کاب 
کورں بڑی بی! مزاج کسےا ہں  
گائے بولی کہ خری اچھے ہںز 
کٹ رہی ہے بری بھلی اپنی 
ہے مصبتل مںے زندگی اپنی 
جان پر آ بنی ہے ، کاا کہےپ 
اپنی قسمت بری ہے ، کاہ کہےے 
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو مں  
رو رہی ہوں بروں کی جان کو مںو 
زور چلتا نہں  غریبوں کا 
پشر آیا لکھا نصبواں کا 
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے 
اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے 
دودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے 
ہوں جو دبلی تو بچک کھاتا ہے 
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے 
کن فریبوں سے رام کرتا ہے 
اس کے بچوں کو پالتی ہوں مںک 
دودھ سے جان ڈالتی ہوں مںں 
بدلے نی ج کے یہ برائی ہے 
مرلے اللہ! تری دہائی ہے 
سن کے بکری یہ ماجرا سارا 
بولی ، ایسا گلہ نہںک اچھا 
بات سچی ہے بے مزا لگتی 
مںت کہوں گی مگر خدا لگتی 
یہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا 
یہ ہری گھاس اور یہ سایا 
اییہ خوشا ں ہمںس نصب  کہاں 
یہ کہاں ، بے زباں غریب کہاں! 
یہ مزے آدمی کے دم سے ہںر 
لطف سارے اسی کے دم سے ہںد 
اس کے دم سے ہے اپنی آبادی 
قد  ہم کو بھلی ، کہ آزادی! 
سو طرح کا بنوں مںھ ہے کھٹکا 
واں کی گزران سے بچائے خدا 
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا 
ہم کو زیبا نہںک گلا اس کا 
قدر آرام کی اگر سمجھو 
آدمی کا کبھی گلہ نہ کرو 
گائے سن کر یہ بات شرمائی 
آدمی کے گلے سے پچھتائی 
دل مںس پرکھا بھلا برا اس نے 
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے 
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی 
دل کو لگتی ہے بات بکری کی

ایک پہاڑ اور گلہری



ایک پہاڑ اور گلہری

(ماخوذ از ایمرسن) 
(بچوں کے لےہ) 

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے 
تجھے ہو شرم تو پانی مں  جا کے ڈوب مرے 
ذرا سی چزی ہے ، اس پر غرور ، کاے کہنا 
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کا  کہنا! 
خدا کی شان ہے ناچزم چزہ بن بںھیا  
جو بے شعور ہوں یوں باتمزی بن بںھز ب 
تری بساط ہے کا  مریی شان کے آگے 
زمںب ہے پست مری آن بان کے آگے 
جو بات مجھ مں  ہے ، تجھ کو وہ ہے نصبک کہاں 
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں! 
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا 
یہ کچی باتں  ہںن دل سے انھںا نکال ذرا 
جو مں  بڑی نہںک ترںی طرح تو کاا پروا 
نہںم ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا 
ہر ایک چز  سے پدکا خدا کی قدرت ہے 
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے 
بڑا جہان مںہ تجھ کو بنا دیا اس نے 
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے 
قدم اٹھانے کی طاقت نہںا ذرا تجھ مںہ 
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کا  تجھ مں  
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو 
یہ چھالاے ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو 
نہںت ہے چز  نکمی کوئی زمانے مں  
کوئی برا نہںی قدرت کے کارخانے مںی

ایک مکڑا اور مکھی



ایک مکڑا اور مکھی
ماخوذ - بچوں کے لےد

اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا 
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا 
لکنر مری کٹام کی نہ جاگی کبھی قسمت 
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا 
غرووں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہںج ہے 
اپنوں سے مگر چاہے  یوں کھنچ کے نہ رہنا 
آؤ جو مرے گھر مں  تو عزت ہے یہ مرںی 
وہ سامنے سڑرھی ہے جو منظور ہو آنا 
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی 
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا 
اس جال مں  مکھی کبھی آنے کی نہںی ہے 
جو آپ کی سڑیھی پہ چڑھا ، پھر نہںر اترا 
مکڑے نے کہا واہ! فرییک مجھے سمجھے 
تم سا کوئی نادان زمانے مںھ نہ ہو گا 
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ 
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس مںے نںی  تھا 
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے 
ٹھہرو جو مرے گھر مںی تو ہے اس مں  برا کاا! 
اس گھر مںم کئی تم کو دکھانے کی ہںا چز یں 
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹان 
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہںس پردے 
دیواروں کو آئنوبں سے ہے مںی نے سجایا 
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہںس بچھونے 
ہر شخص کو ساماں یہ مسر  نہںب ہوتا 
مکھی نے کہا خر  ، یہ سب ٹھکت ہے لکنں 
مںھ آپ کے گھر آؤں ، یہ امد  نہ رکھنا 
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے 
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہںد سکتا 
مکڑے نے کہا دل مں  سنی بات جو اس کی 
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا 
سو کام خوشامد سے نکلتے ہں  جہاں مںہ 
دیکھو جسے دنال مںں خوشامد کا ہے بندا 
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی ! 
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا 
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت 
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا 
آنکھں  ہںی کہ ہرکے کی چمکتی ہوئی کناتں 
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا 
یہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ صفائی 
پھر اس پہ قاہمت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا 
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیتی 
بولی کہ نہںت آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا 
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا مںو 
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہںو ہوتا 
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے 
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا 
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی 
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا

ہے بلندی سے فلک بوس نشمن مررا



ابر کوہسار


ہے بلندی سے فلک بوس نشمن  مررا 
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن مرنا 
کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن مررا 
شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن مرزا 
کسی وادی مں  جو منظور ہو سونا مجھ کو 
سبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو 
مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے در افشاں ہونا 
ناقۂ شاہد رحمت کا حدی خواں ہونا 
غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا 
رونق بزم جوانان گلستاں ہونا 
بن کے گسوج رخ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں 
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں 
دور سے دیدۂ امدا کو ترساتا ہوں 
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں 
سری کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں 
بالایں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں 
سبزۂ مزرع نوخزا کی امدا ہوں مںک 
زادۂ بحر ہوں پروردۂ خورشدا ہوں مںد 
چشمۂ کوہ کو دی شورش قلزم مںخ نے 
اور پرندوں کو کاب محو ترنم مں  نے 
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم مں  نے 
غنچۂ گل کو دیا ذوق تبسم مں  نے 
فضچ سے مرھے نمونے ہںو شبستانوں کے 
جھونپڑے دامن کہسار مں  دہقانوں کے

Sunday, March 17, 2013

مرزا غالب فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا



مرزا غالب
Allama Mohammad Iqbal, 
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا 
ہے پر مرغ تخلت کی رسائی تا کجا 
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پکرت ترا 
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا 
دید ترفی آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے 
بن کے سوز زندگی ہر شے مں  جو مستور ہے 
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار 
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار 
تر ے فردوس تخلک سے ہے قدرت کی بہار 
تر ی کشت فکر سے اگتے ہںر عالم سبزہ وار 
زندگی مضمر ہے ترری شوخی تحریر مں  
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر مںت 
نطق کو سو ناز ہںا تر ے لب اعجاز پر 
محو حر ت ہے ثریا رفعت پرواز پر 
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر 
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شرراز پر 
آہ! تو اجڑی ہوئی دلی مں  آرامدمہ ہے 
گلشن ویمر مںڑ تر ا ہم نوا خوابد ہ ہے 
لطف گویائی مںپ ترمی ہمسری ممکن نہںی 
ہو تخلن کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں 
ہائے! اب کاب ہو گئی ہندوستاں کی سر زمںآ 
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بںو 
گسوےئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے 
شمع یہ سودائی دل سوزیِ  پروانہ ہے 
اے جہان آباد ، اے گہوارۂ علم و ہنر 
ہں  سراپا نالۂ خاموش تروے بام و در 
ذرے ذرے مںس ترے خوابدوہ ہں  شمس و قمر 
یوں تو پوشداہ ہںب تردی خاک مں  لاکھوں گہر 
دفن تجھ مںپ کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے؟ 
تجھ مںھ پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟