ہمدردی
( ماخوذ از ولما کو پر )
بچوں کے لےخ
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بٹھاج
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے مںر دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشارں تک
ہر چزں پہ چھا گان اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کڑضا ہوں اگرچہ مںل ذرا سا
کاض غم ہے جو رات ہے اندھیری
مںض راہ مںج روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہںک لوگ وہی جہاں مںر اچھے
آتے ہںے جو کام دوسرں کے






0 comments:
Post a Comment