Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

ایک گائے اور بکری



ایک گائے اور بکری 
(ماخوذ )
بچوں کے لےگ


اک چراگہ ہری بھری تھی کہںج 
تھی سراپا بہار جس کی زمںن 
کای سماں اس بہار کا ہو بایں 
ہر طرف صاف ندیاں تھںہ رواں 
تھے اناروں کے بے شمار درخت 
اور پیپل کے سایہ دار درخت 
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائںت آتی تھںن 
طائروں کی صدائںہ آتی تھںں 
کسی ندی کے پاس اک بکری 
چرتے چرتے کہںل سے آ نکلی 
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا 
پاس اک گائے کو کھڑے پایا 
پہلے جھک کر اسے سلام کاے 
پھر سلقے  سے یوں کلام کاب 
کورں بڑی بی! مزاج کسےا ہں  
گائے بولی کہ خری اچھے ہںز 
کٹ رہی ہے بری بھلی اپنی 
ہے مصبتل مںے زندگی اپنی 
جان پر آ بنی ہے ، کاا کہےپ 
اپنی قسمت بری ہے ، کاہ کہےے 
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو مں  
رو رہی ہوں بروں کی جان کو مںو 
زور چلتا نہں  غریبوں کا 
پشر آیا لکھا نصبواں کا 
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے 
اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے 
دودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے 
ہوں جو دبلی تو بچک کھاتا ہے 
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے 
کن فریبوں سے رام کرتا ہے 
اس کے بچوں کو پالتی ہوں مںک 
دودھ سے جان ڈالتی ہوں مںں 
بدلے نی ج کے یہ برائی ہے 
مرلے اللہ! تری دہائی ہے 
سن کے بکری یہ ماجرا سارا 
بولی ، ایسا گلہ نہںک اچھا 
بات سچی ہے بے مزا لگتی 
مںت کہوں گی مگر خدا لگتی 
یہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا 
یہ ہری گھاس اور یہ سایا 
اییہ خوشا ں ہمںس نصب  کہاں 
یہ کہاں ، بے زباں غریب کہاں! 
یہ مزے آدمی کے دم سے ہںر 
لطف سارے اسی کے دم سے ہںد 
اس کے دم سے ہے اپنی آبادی 
قد  ہم کو بھلی ، کہ آزادی! 
سو طرح کا بنوں مںھ ہے کھٹکا 
واں کی گزران سے بچائے خدا 
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا 
ہم کو زیبا نہںک گلا اس کا 
قدر آرام کی اگر سمجھو 
آدمی کا کبھی گلہ نہ کرو 
گائے سن کر یہ بات شرمائی 
آدمی کے گلے سے پچھتائی 
دل مںس پرکھا بھلا برا اس نے 
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے 
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی 
دل کو لگتی ہے بات بکری کی

0 comments:

Post a Comment