Translate This Blog

+grab this

Tuesday, March 19, 2013

ابر



ابر 


اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا 
ساھہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا 
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر 
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر 
گرج کا شور نہں  ہے ، خموش ہے یہ گھٹا 
عجب  مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا
چمن مں  حکم نشاط مدام لائی ہے 
قبائے گل مںن گہر ٹانکنے کو آئی ہے 
جو پھول مہر کی گرمی سے سو چلے تھے ، اٹھے 
زمںپ کی گود مں  جو پڑ کے سو رہے تھے ، اٹھے 
ہوا کے زور سے ابھرا، بڑھا، اڑا بادل 
اٹھی وہ اور گھٹا، لو! برس پڑا بادل 
عجبی خمہہ ہے کہسار کے نہالوں کا 
یںبی قاہم ہو وادی مںک پھرنے والوں کا

0 comments:

Post a Comment