Translate This Blog

+grab this

Tuesday, March 19, 2013

نیا شوالا



نیا شوالا 


سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے 
تر ے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے 
اپنوں سے برص رکھنا تو نے بتوں سے سکھاا 
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے 
تنگ آ کے مںک نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا 
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے 
پتھر کی مورتوں مںف سمجھا ہے تو خدا ہے 

خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے 
آ ، غرنیت کے پردے اک بار پھر اٹھا دیں 
بچھڑوں کو پھر ملا دیں نقش دوئی مٹا دیں 
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی 
آ ، اک نا  شوالا اس دیس مںی بنا دیں 
دنا  کے تروتھوں سے اونچا ہو اپنا تر تھ 
دامان آسماں سے اس کا کلس ملا دیں 
ہر صبح اٹھ کے گائںک منتر وہ مٹیھے مٹیھے 
سارے پجاریوں کو مے پتن کی پلا دیں 
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گتب مں  ہے 
دھرتی کے باسوےں کی مکتی پریت مںی ہے

0 comments:

Post a Comment