Translate This Blog

+grab this

Thursday, March 21, 2013

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں




ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 
مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں 
ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی 
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں 

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو 
کہ مں  آپ کا سامنا چاہتا ہوں 
ذرا سا تو دل ہوں ، مگر شوخ اتنا 
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں 
کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل 
چراغ سحر ہوں ، بجھا چاہتا ہوں 
بھری بزم مںم راز کی بات کہہ دی 
بڑا بے ادب ہوں ، سزا چاہتا ہوں

0 comments:

Post a Comment