Translate This Blog

+grab this

Thursday, March 21, 2013

عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب عداوت ہے اسے سارے جہاں سے





عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب 
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے 
کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں 
کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے 

وہیں سے رات کو ظلمت ملی ہے 
چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے 
ہم اپنی درد مندی کا فسانہ 
سنا کرتے ہں  اپنے راز داں سے 
بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں  
لرز جاتا ہے آواز اذاں سے

٭ ٭ ٭ ٭

0 comments:

Post a Comment