نہ آتے ، ہمں اس مںف تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
تمھارے پاکمی نے سب راز کھولا
خطا اس مںک بندے کی سرکار کیا تھی
بھری بزم مں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی مںق ہشار کیا تھی!
تامل تو تھا ان کو آنے می قاصد
مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی
کھنچے خود بخود جانب طور موسی
کشش ترخی اے شوق دیدار کیا تھی!
کہں ذکر رہتا ہے اقبال ترا
فسوں تھا کوئی ، ترب گفتار کیا تھی
٭ ٭ ٭ ٭






0 comments:
Post a Comment