غزلیات علامہ اقبال
گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چزا اسے بار بار دیکھ
آیا ہے تو جہاں مںل مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
مانا کہ ترای دید کے قابل نہںک ہوں مںک
تو مرکا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
کھولی ہں ذوق دید نے آنکھںھ تری اگر
ہر رہ گزر مں نقش کف پائے یار دیکھ






0 comments:
Post a Comment