Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

خفتگان خاک سے استفسار



خفتگان خاک سے استفسار


مہر روشن چھپ گاس ، اٹھی نقاب روئے شام 
شانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گسوئئے شام 
یہ سہۂ پوشی کی تااری کس کے غم مں  ہے 
محفل قدرت مگر خورشدو کے ماتم مںا ہے 
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر 
ساحر شب کی نظر ہے دیدۂ بدوار پر 
غوطہ زن دریاۓ خاموشی مںو ہے موج ہوا 
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا 
دل کہ ہے بے تابئ الفت مںو دناں سے نفور 
کھنچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دور 
منظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں مںس 
ہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں مںے 
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے 
اور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے 
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم 
کچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تم 
وہ بھی حرست خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟ 
اور پکا ر عناصر کا تماشا ہے کوئی؟ 
آدمی واں بھی حصار غم مںر ہے محصور کاھ؟ 
اس ولایت مںا بھی ہے انساں کا دل مجبور کاک؟ 
واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کاا؟ 
اس چمن مںل بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کاک؟ 
یاں تو اک مصرع مںی پہلو سے نکل جاتا ہے دل 
شعر کی گرمی سے کا  واں بھی پگل جاتا ہے دل؟ 
رشتہ و پو ند یاں کے جان کا آزار ہںی 
اس گلستاں مںی بھی کاک ایسے نکلےم خار ہںا؟ 
اس جہاں مںم اک معشتی اور سو افتاد ہے 
روح کاں اس دیس مںش اس فکر سے آزاد ہے؟ 
کاح وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟ 
قافلے والے بھی ہںا ، اندیشۂ رہزن بھی ہے؟ 
تنکے چنتے ہںھ و ہاں بھی آشا ں کے واسطے؟ 
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟ 
واں بھی انساں اپنی اصلتہ سے بگا؟نے ہں، کای؟ 
امتیاز ملت و آئںں کے دیوانے ہںے کاگ؟ 
واں بھی کائ فریاد بلبل پر چمن روتا نہںا؟ 
اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا نہںا؟ 
باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟ 
یا رخ بے پردۂ حسن ازل کا نام ہے؟ 
کاغ جہنم معصیت سوزی کی اک ترکب  ہے؟ 
آگ کے شعلوں مں  پنہاں مقصد تادیب ہے؟ 
کا  عوض رفتار کے اس دیس مںد پرواز ہے؟ 
موت کہتے ہںو جسے اہل زمںس ، کا  راز ہے ؟ 
اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے 
علم انساں اس ولایت مںی بھی کاب محدود ہے؟ 
دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور بھی؟ 
'لن ترانی' کہہ رہے ہںہ یا وہاں کے طور بھی؟ 
جستجو مںر ہے وہاں بھی روح کو آرام کاب؟ 
واں بھی انساں ہے قتلی ذوق استفہام کای؟ 
آہ! وہ کشور بھی تارییہ سے کا  معمور ہے؟ 
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے؟ 
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں مںہ ہے 
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں مںے ہے

پرندے کی فریاد



پرندے کی فریاد 
بچو ں کے لےھ 

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا 
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی 
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا 
لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم 
شبنم کے آنسوؤں پر کلو ں کا مسکرانا 
وہ پاکری پا ری صورت ، وہ کامنی سی مورت 
آباد جس کے دم سے تھا مررا آشا نا 
آتی نہںا صدائںآ اس کی مرے قفس مں  
ہوتی مری رہائی اے کاش مروے بس مںم! 
کات بد نصبم ہوں مںر گھر کو ترس رہا ہوں 
ساتھی تو ہںم وطن مںی ، مںر قد  مںم پڑا ہوں 
آئی بہار کلایں پھولوں کی ہنس رہی ہںا 
مںی اس اندھیرے گھر مں  قسمت کو رو رہا ہوں 
اس قدج کا الہی! دکھڑا کسے سناؤں 
ڈر ہے یںکا قفسں مںے مںے غم سے مر نہ جاؤں 
جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گاڑ ہے 
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے 
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے 
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے 
آزاد مجھ کو کر دے ، او قدن کرنے والے! 
مںا بے زباں ہوں قددی ، تو چھوڑ کر دعا لے

ماں کا خواب



ماں کا خواب 
(ماخوذ بچوں کے لےا )

مںں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب 
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب 
یہ دیکھا کہ مں  جا رہی ہوں کہںو 
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہںا 
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال 
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال 
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی 
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی 
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے 
دیے سب کے ہاتھوں مں  جلتے ہوئے 
وہ چپ چاپ تھے آگے پچھے  رواں 
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں 
اسی سوچ مںو تھی کہ مرےا پسر 
مجھے اس جماعت مںس آیا نظر 
وہ پچھے  تھا اور تزآ چلتا نہ تھا 
دیا اس کے ہاتھوں مںز جلتا نہ تھا 
کہا مںے نے پہچان کر ، مرتی جاں! 
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں! 
جدائی مں  رہتی ہوں مں  بے قرار 
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار 
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی 
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی 
جو بچے نے دیکھا مرا پچا و تاب 
دیا اس نے منہ پھر  کر یوں جواب 
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری 
نہںت اس مںت کچھ بھی بھلائی مری 
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا 
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا 
سمجھتی ہے تو ہو گاد کاگ اسے؟ 
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے

ہمدردی ( ماخوذ از ولما کو پر ) بچوں کے لےخ



ہمدردی
( ماخوذ از ولما کو پر )
بچوں کے لےخ


ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بٹھاج
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے مںر دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشارں تک
ہر چزں پہ چھا گان اندھیرا
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کڑضا ہوں اگرچہ مںل ذرا سا

کاض غم ہے جو رات ہے اندھیری
مںض راہ مںج روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہںک لوگ وہی جہاں مںر اچھے
آتے ہںے جو کام دوسرں کے

بچے کی دعا



بچے کی دعا
(ما خو ذ)
بچوں کے لےذ

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مر ی
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا مر ی
دور دنات کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ مرےے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی مراے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعفویں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

ایک گائے اور بکری



ایک گائے اور بکری 
(ماخوذ )
بچوں کے لےگ


اک چراگہ ہری بھری تھی کہںج 
تھی سراپا بہار جس کی زمںن 
کای سماں اس بہار کا ہو بایں 
ہر طرف صاف ندیاں تھںہ رواں 
تھے اناروں کے بے شمار درخت 
اور پیپل کے سایہ دار درخت 
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائںت آتی تھںن 
طائروں کی صدائںہ آتی تھںں 
کسی ندی کے پاس اک بکری 
چرتے چرتے کہںل سے آ نکلی 
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا 
پاس اک گائے کو کھڑے پایا 
پہلے جھک کر اسے سلام کاے 
پھر سلقے  سے یوں کلام کاب 
کورں بڑی بی! مزاج کسےا ہں  
گائے بولی کہ خری اچھے ہںز 
کٹ رہی ہے بری بھلی اپنی 
ہے مصبتل مںے زندگی اپنی 
جان پر آ بنی ہے ، کاا کہےپ 
اپنی قسمت بری ہے ، کاہ کہےے 
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو مں  
رو رہی ہوں بروں کی جان کو مںو 
زور چلتا نہں  غریبوں کا 
پشر آیا لکھا نصبواں کا 
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے 
اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے 
دودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے 
ہوں جو دبلی تو بچک کھاتا ہے 
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے 
کن فریبوں سے رام کرتا ہے 
اس کے بچوں کو پالتی ہوں مںک 
دودھ سے جان ڈالتی ہوں مںں 
بدلے نی ج کے یہ برائی ہے 
مرلے اللہ! تری دہائی ہے 
سن کے بکری یہ ماجرا سارا 
بولی ، ایسا گلہ نہںک اچھا 
بات سچی ہے بے مزا لگتی 
مںت کہوں گی مگر خدا لگتی 
یہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا 
یہ ہری گھاس اور یہ سایا 
اییہ خوشا ں ہمںس نصب  کہاں 
یہ کہاں ، بے زباں غریب کہاں! 
یہ مزے آدمی کے دم سے ہںر 
لطف سارے اسی کے دم سے ہںد 
اس کے دم سے ہے اپنی آبادی 
قد  ہم کو بھلی ، کہ آزادی! 
سو طرح کا بنوں مںھ ہے کھٹکا 
واں کی گزران سے بچائے خدا 
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا 
ہم کو زیبا نہںک گلا اس کا 
قدر آرام کی اگر سمجھو 
آدمی کا کبھی گلہ نہ کرو 
گائے سن کر یہ بات شرمائی 
آدمی کے گلے سے پچھتائی 
دل مںس پرکھا بھلا برا اس نے 
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے 
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی 
دل کو لگتی ہے بات بکری کی

ایک پہاڑ اور گلہری



ایک پہاڑ اور گلہری

(ماخوذ از ایمرسن) 
(بچوں کے لےہ) 

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے 
تجھے ہو شرم تو پانی مں  جا کے ڈوب مرے 
ذرا سی چزی ہے ، اس پر غرور ، کاے کہنا 
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کا  کہنا! 
خدا کی شان ہے ناچزم چزہ بن بںھیا  
جو بے شعور ہوں یوں باتمزی بن بںھز ب 
تری بساط ہے کا  مریی شان کے آگے 
زمںب ہے پست مری آن بان کے آگے 
جو بات مجھ مں  ہے ، تجھ کو وہ ہے نصبک کہاں 
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں! 
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا 
یہ کچی باتں  ہںن دل سے انھںا نکال ذرا 
جو مں  بڑی نہںک ترںی طرح تو کاا پروا 
نہںم ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا 
ہر ایک چز  سے پدکا خدا کی قدرت ہے 
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے 
بڑا جہان مںہ تجھ کو بنا دیا اس نے 
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے 
قدم اٹھانے کی طاقت نہںا ذرا تجھ مںہ 
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کا  تجھ مں  
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو 
یہ چھالاے ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو 
نہںت ہے چز  نکمی کوئی زمانے مں  
کوئی برا نہںی قدرت کے کارخانے مںی