Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

ماں کا خواب



ماں کا خواب 
(ماخوذ بچوں کے لےا )

مںں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب 
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب 
یہ دیکھا کہ مں  جا رہی ہوں کہںو 
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہںا 
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال 
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال 
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی 
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی 
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے 
دیے سب کے ہاتھوں مں  جلتے ہوئے 
وہ چپ چاپ تھے آگے پچھے  رواں 
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں 
اسی سوچ مںو تھی کہ مرےا پسر 
مجھے اس جماعت مںس آیا نظر 
وہ پچھے  تھا اور تزآ چلتا نہ تھا 
دیا اس کے ہاتھوں مںز جلتا نہ تھا 
کہا مںے نے پہچان کر ، مرتی جاں! 
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں! 
جدائی مں  رہتی ہوں مں  بے قرار 
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار 
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی 
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی 
جو بچے نے دیکھا مرا پچا و تاب 
دیا اس نے منہ پھر  کر یوں جواب 
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری 
نہںت اس مںت کچھ بھی بھلائی مری 
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا 
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا 
سمجھتی ہے تو ہو گاد کاگ اسے؟ 
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے

0 comments:

Post a Comment