Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

آفتاب



آفتاب 
(ترجمہ گایتری ) 

اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو 
شر ازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو 
باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا 
ہے سبز تروے دم سے چمن ہست و بود کا 
قائم یہ عرصےوں کا تماشا تجھی سے ہے 
ہر شے مںی زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے 
ہر شے کو تروی جلوہ گری سے ثبات ہے 
تر ا یہ سوز و ساز سراپا حاقت ہے 
وہ آفتاب جس سے زمانے مںو نور ہے 
دل ہے ، خرد ہے ، روح رواں ہے ، شعور ہے 
اے آفتاب ، ہم کو ضاحئے شعور دے 
چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے 
ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو 
یزدان ساکنان نشبک و فراز تو 
تر ا کمال ہستی ہر جاندار مں  
تر ی نمود سلسلۂ کوہسار مںر 
ہر چزد کی حاوت کا پروردگار تو 
زائدزگان نور کا ہے تاجدار تو 
نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری 
آزاد قدا اول و آخر ضای تری 

صدائے درد



صدائے درد 

جل رہا ہوں کل نہں  پڑتی کسی پہلو مجھے 
ہاں ڈبو دے اے محط  آب گنگا تو مجھے 
سرزمںب اپنی قانمت کی نفاق انگزم ہے 
وصل کساپ ، یاں تو اک قرب فراق انگزا ہے 
بدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے غضب 
ایک ہی خرمن کے دانوں مںہ جدائی ہے غضب 
جس کے پھولوں مںن اخوت کی ہوا آئی نہںغ 
اس چمن مںل کوئی لطف نغمہ پراائی نہںغ 
لذت قرب حقیںی پر مٹا جاتا ہوں مںی 
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں مںت 
دانۂ نم خرمن نما ہے شاعر معجز باںں 
ہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں 
حسن ہو کان خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو 
شمع کو جلنے سے کا  مطلب جو محفل ہی نہ ہو 
ذوق گویائی خموشی سے بدلتا کوگں نہں  
مرقے آئنےک سے یہ جوہر نکلتا کوبں نہں  
کب زباں کھولی ہماری لذت گفتار نے! 
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پکاہر نے

عقل و دل



عقل و دل 


عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا 
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں مںک 
ہوں زمںھ پر ، گزر فلک پہ مرا 
دیکھ تو کس قدر رسا ہوں مںپ 
کام دناھ مں  رہبری ہے مرا 
مثل خضر خجستہ پا ہوں مںا 
ہوں مفسر کتاب ہستی کی 
مظہر شان کبریا ہوں مںک 
بوند اک خون کی ہے تو لکن  
غرنت لعل بے بہا ہوں مںو 
دل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہے 
پر مجھے بھی تو دیکھ ، کاے ہوں مں  
راز ہستی کو تو سمجھتی ہے 
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں مںر 
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے 
اور باطن سے آشنا ہوں مںت 
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے 
تو خدا جو ، خدا نما ہوں مں  
علم کی انتہا ہے بے تابی 
اس مرض کی مگر دوا ہوں مںں 
شمع تو محفل صداقت کی 
حسن کی بزم کا دیا ہوں مں  
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا 
طائر سدرہ آشنا ہوں مںہ 
کس بلندی پہ ہے مقام مرا 
عرش رب جللآ کا ہوں مںق! 

شمع و پروانہ



شمع و پروانہ

پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پا ر کواں 
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کو ں 
سمااب وار رکھتی ہے ترںی ادا اسے 
آداب عشق تو نے سکھائے ہںا کای اسے؟ 
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا 
پھونکا ہوا ہے کاہ تری برق نگاہ کا؟ 
آزار موت مںہ اسے آرام جاں ہے کاب؟ 
شعلے مںت ترںے زندگی جاوداں ہے کا ؟ 
غم خانۂ جہاں مںر جو تر ی ضا  نہ ہو 
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو 
گرنا ترے حضور مںل اس کی نماز ہے 
ننھے سے دل مں  لذت سوز و گداز ہے 
کچھ اس مںل جوش عاشق حسن قدیم ہے 
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلمی ہے 
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشنی 
کڑوا ذرا سا ، اور تمنائے روشنی!

خفتگان خاک سے استفسار



خفتگان خاک سے استفسار


مہر روشن چھپ گاس ، اٹھی نقاب روئے شام 
شانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گسوئئے شام 
یہ سہۂ پوشی کی تااری کس کے غم مں  ہے 
محفل قدرت مگر خورشدو کے ماتم مںا ہے 
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر 
ساحر شب کی نظر ہے دیدۂ بدوار پر 
غوطہ زن دریاۓ خاموشی مںو ہے موج ہوا 
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا 
دل کہ ہے بے تابئ الفت مںو دناں سے نفور 
کھنچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دور 
منظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں مںس 
ہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں مںے 
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے 
اور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے 
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم 
کچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تم 
وہ بھی حرست خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟ 
اور پکا ر عناصر کا تماشا ہے کوئی؟ 
آدمی واں بھی حصار غم مںر ہے محصور کاھ؟ 
اس ولایت مںا بھی ہے انساں کا دل مجبور کاک؟ 
واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کاا؟ 
اس چمن مںل بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کاک؟ 
یاں تو اک مصرع مںی پہلو سے نکل جاتا ہے دل 
شعر کی گرمی سے کا  واں بھی پگل جاتا ہے دل؟ 
رشتہ و پو ند یاں کے جان کا آزار ہںی 
اس گلستاں مںی بھی کاک ایسے نکلےم خار ہںا؟ 
اس جہاں مںم اک معشتی اور سو افتاد ہے 
روح کاں اس دیس مںش اس فکر سے آزاد ہے؟ 
کاح وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟ 
قافلے والے بھی ہںا ، اندیشۂ رہزن بھی ہے؟ 
تنکے چنتے ہںھ و ہاں بھی آشا ں کے واسطے؟ 
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟ 
واں بھی انساں اپنی اصلتہ سے بگا؟نے ہں، کای؟ 
امتیاز ملت و آئںں کے دیوانے ہںے کاگ؟ 
واں بھی کائ فریاد بلبل پر چمن روتا نہںا؟ 
اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا نہںا؟ 
باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟ 
یا رخ بے پردۂ حسن ازل کا نام ہے؟ 
کاغ جہنم معصیت سوزی کی اک ترکب  ہے؟ 
آگ کے شعلوں مں  پنہاں مقصد تادیب ہے؟ 
کا  عوض رفتار کے اس دیس مںد پرواز ہے؟ 
موت کہتے ہںو جسے اہل زمںس ، کا  راز ہے ؟ 
اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے 
علم انساں اس ولایت مںی بھی کاب محدود ہے؟ 
دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور بھی؟ 
'لن ترانی' کہہ رہے ہںہ یا وہاں کے طور بھی؟ 
جستجو مںر ہے وہاں بھی روح کو آرام کاب؟ 
واں بھی انساں ہے قتلی ذوق استفہام کای؟ 
آہ! وہ کشور بھی تارییہ سے کا  معمور ہے؟ 
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے؟ 
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں مںہ ہے 
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں مںے ہے

پرندے کی فریاد



پرندے کی فریاد 
بچو ں کے لےھ 

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا 
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی 
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا 
لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم 
شبنم کے آنسوؤں پر کلو ں کا مسکرانا 
وہ پاکری پا ری صورت ، وہ کامنی سی مورت 
آباد جس کے دم سے تھا مررا آشا نا 
آتی نہںا صدائںآ اس کی مرے قفس مں  
ہوتی مری رہائی اے کاش مروے بس مںم! 
کات بد نصبم ہوں مںر گھر کو ترس رہا ہوں 
ساتھی تو ہںم وطن مںی ، مںر قد  مںم پڑا ہوں 
آئی بہار کلایں پھولوں کی ہنس رہی ہںا 
مںی اس اندھیرے گھر مں  قسمت کو رو رہا ہوں 
اس قدج کا الہی! دکھڑا کسے سناؤں 
ڈر ہے یںکا قفسں مںے مںے غم سے مر نہ جاؤں 
جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گاڑ ہے 
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے 
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے 
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے 
آزاد مجھ کو کر دے ، او قدن کرنے والے! 
مںا بے زباں ہوں قددی ، تو چھوڑ کر دعا لے

ماں کا خواب



ماں کا خواب 
(ماخوذ بچوں کے لےا )

مںں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب 
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب 
یہ دیکھا کہ مں  جا رہی ہوں کہںو 
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہںا 
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال 
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال 
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی 
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی 
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے 
دیے سب کے ہاتھوں مں  جلتے ہوئے 
وہ چپ چاپ تھے آگے پچھے  رواں 
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں 
اسی سوچ مںو تھی کہ مرےا پسر 
مجھے اس جماعت مںس آیا نظر 
وہ پچھے  تھا اور تزآ چلتا نہ تھا 
دیا اس کے ہاتھوں مںز جلتا نہ تھا 
کہا مںے نے پہچان کر ، مرتی جاں! 
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں! 
جدائی مں  رہتی ہوں مں  بے قرار 
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار 
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی 
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی 
جو بچے نے دیکھا مرا پچا و تاب 
دیا اس نے منہ پھر  کر یوں جواب 
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری 
نہںت اس مںت کچھ بھی بھلائی مری 
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا 
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا 
سمجھتی ہے تو ہو گاد کاگ اسے؟ 
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے