Translate This Blog

+grab this

Monday, March 18, 2013

عقل و دل



عقل و دل 


عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا 
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں مںک 
ہوں زمںھ پر ، گزر فلک پہ مرا 
دیکھ تو کس قدر رسا ہوں مںپ 
کام دناھ مں  رہبری ہے مرا 
مثل خضر خجستہ پا ہوں مںا 
ہوں مفسر کتاب ہستی کی 
مظہر شان کبریا ہوں مںک 
بوند اک خون کی ہے تو لکن  
غرنت لعل بے بہا ہوں مںو 
دل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہے 
پر مجھے بھی تو دیکھ ، کاے ہوں مں  
راز ہستی کو تو سمجھتی ہے 
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں مںر 
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے 
اور باطن سے آشنا ہوں مںت 
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے 
تو خدا جو ، خدا نما ہوں مں  
علم کی انتہا ہے بے تابی 
اس مرض کی مگر دوا ہوں مںں 
شمع تو محفل صداقت کی 
حسن کی بزم کا دیا ہوں مں  
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا 
طائر سدرہ آشنا ہوں مںہ 
کس بلندی پہ ہے مقام مرا 
عرش رب جللآ کا ہوں مںق! 

0 comments:

Post a Comment