Translate This Blog

+grab this

Tuesday, March 19, 2013

ابر



ابر 


اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا 
ساھہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا 
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر 
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر 
گرج کا شور نہں  ہے ، خموش ہے یہ گھٹا 
عجب  مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا

داغ



داغ 


عظمت غالب ہے اک مدت سے پوپند زمیں 
مہدی مجروح ہے شہر خموشاں کا مکیں  
توڑ ڈالی موت نے غربت میں  مناےئے امر  
چشم محفل  میں ہے اب تک کفں صہبائے امر 

نیا شوالا



نیا شوالا 


سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے 
تر ے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے 
اپنوں سے برص رکھنا تو نے بتوں سے سکھاا 
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے 
تنگ آ کے مںک نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا 
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے 
پتھر کی مورتوں مںف سمجھا ہے تو خدا ہے 

لاہور و کراچی



لاہور و کراچی 


نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غور 
موت کال شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر 
ان شہدلوں کی دیت اہل کلسا  سے نہ مانگ 

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت



ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

چشتی نے جس زمیں میں پغام حق سنایا 
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا 
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا 
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا 
مر ا وطن وہی ہے ، مرا وطن وہی ہے 
یونانیوں کو جس نے حیر ان کر دیا تھا 
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا 
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا 
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا 
مرکا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے 
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے 
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے 
وحدت کی لے سنی تھی دناھ نے جس مکاں سے 
مرد عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے 
مردا وطن وہی ہے، مرنا وطن وہی ہے 
بندے کلمر جس کے ، پربت جہاں کے سنا  
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا 
رفعت ہے جس زمں  کی بام فلک کا زینا 
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا مں  جناج 
مرتا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے

لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں



صبح کا ستارہ 


لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں 
اور اس خدمت پغام سحر کو چھوڑوں 
مررے حق مںی تو نہںھ تاروں کی بستی اچھی 
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی 
آسماں کار ، عدم آباد وطن ہے مرںا 
صبح کا دامن صد چاک کفن ہے مر ا 
مرحی قسمت مںر ہے ہر روز کا مرنا جناھ 
ساقی موت کے ہاتھوں سے صبوحی پنام 
نہ یہ خدمت، نہ یہ عزت، نہ یہ رفعت اچھی 
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی 
مر ی قدرت مںچ جو ہوتا، تو نہ اختر بنتا 
قعر دریا مںق چمکتا ہوا گوہر بنتا 
واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا 
چھوڑ کر بحر کہںچ زیب گلو ہو جاتا 
ہے چمکنے مں  مزا حسن کا زیور بن کر 
زینت تاج سر  بانوئے قصرگ بن کر 
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا 
خاتم دست سلمارں کا نگںص بن کے رہا 
اییس چزںوں  کا مگر دہر مںا ہے کام شکست 
ہے گہر ہائے گراں مایہ کا انجام شکست 
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل 
کاد وہ جناو ہے کہ ہو جس مں  تقاضائے اجل 
ہے یہ انجام اگر زینت عالم ہو کر 
کودں نہ گر جاؤ ں کسی پھول پہ شبنم ہو کر! 
کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں مںہ رہوں 
کس مظلوم کی آہوں کے شراروں مںے رہوں 
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں مںں 
کوکں نہ اس بوےی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں مں  
ق 
جس کا شوہر ہو رواں، ہو کے زرہ مں  مستور 
سوئے مدوان وغا ، حبِّ وطن سے مجبور 
یاس و امدی کا نظارہ جو دکھلاتی ہو 
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو 
جس کو شوہر کی رضا تاب شکباقئی دے 
اور نگاہوں کو حای طاقت گویائی دے 
زرد ، رخصت کی گھڑی ، عارض گلگوں ہو جائے 
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے 
لاکھ وہ ضبط کرے پر مںو ٹپک ہی جاؤں 
ساغر دیدۂ پرنم سے چھلک ہی جاؤں 
خاک مںہ مل کے حاکت ابدی پا جاؤں 
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں 

Monday, March 18, 2013

جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا



جگنو 


جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا 
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن مںم 
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ 
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن مںم 
یا شب کی سلطنت مںہ دن کا سفرا آیا 
غربت مںب آ کے چمکا، گمنام تھا وطن مںک 
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا 
ذرہ ہے یا نمایاں سورج کے پرنہن مں  
حسن قدیم کی یہ پوشد ہ اک جھلک تھی 
لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن مںک 
چھوٹے سے چاند مںج ہے ظلمت بھی روشنی بھی 
نکلا کبھی گہن سے، آیا کبھی گہن مں  
پروانہ اک پتنگا، جگنو بھی اک پتنگا 
وہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا 
ہر چزش کو جہاں مںا قدرت نے دلبری دی 
پروانے کو تپش دی، جگنو کو روشنی دی 
رنگںن نوا بنایا مرغان بے زباں کو 
گل کو زبان دے کر تعلم  خامشی دی 
نظارۂ شفق کی خوبی زوال مں  تھی 
چمکا کے اس پری کو تھوڑی سی زندگی دی 
رنگں  کای سحر کو، بانکی دلھن کی صورت 
پہنا کے لال جوڑا شبنم کی آرسی دی 
سایہ دیا شجر کو، پرواز دی ہوا کو 
پانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی 
یہ امتیاز لکنک اک بات ہے ہماری 
جگنو کا دن وہی ہے جو رات ہے ہماری 
حسن ازل کی پدکا ہر چز  مں  جھلک ہے 
انساں مںک وہ سخن ہے، غنچے مں  وہ چٹک ہے 
یہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا 
واں چاندنی ہے جو کچھ، یاں درد کی کسک ہے 
انداز گفتگو نے دھوکے دیے ہںا ورنہ 
نغمہ ہے بوئے بلبل، بو پھول کی چہک ہے 
کثرت مں  ہو گاھ ہے وحدت کا راز مخفی 
جگنو مں  جو چمک ہے وہ پھول مںح مہک ہے 
یہ اختلاف پھر کووں ہنگاموں کا محل ہو 
ہر شے مںت جبکہ پنہاں خاموشیِ ازل ہو