Translate This Blog

+grab this

Tuesday, March 19, 2013

بچّہ اور شمع



بچّہ اور شمع


کیّآ حربانی ہے یہ اے طفلک پروانہ خو! 
شمع کے شعلوں کو گھڑیوں دیکھتا رہتا ہے تو 
یہ مری آغوش مںا بٹھےس ہوئے جنبش ہے کار 
روشنی سے کاغ بغل گرںی ہے تر ا مدعا؟ 
اس نظارے سے ترا ننھا سا دل حر ان ہے 

ایک پرندہ اور جگنو




ایک پرندہ اور جگنو 


سر شام ایک مرغ نغمہ پرگا 
کسی ٹہنی پہ بٹھان گا رہا تھا 
چمکتی چزن اک دییھن زمں  پر 
اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر 
کہا جگنو نے او مرغ نوا ریز! 

ابر



ابر 


اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا 
ساھہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا 
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر 
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر 
گرج کا شور نہں  ہے ، خموش ہے یہ گھٹا 
عجب  مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا

داغ



داغ 


عظمت غالب ہے اک مدت سے پوپند زمیں 
مہدی مجروح ہے شہر خموشاں کا مکیں  
توڑ ڈالی موت نے غربت میں  مناےئے امر  
چشم محفل  میں ہے اب تک کفں صہبائے امر 

نیا شوالا



نیا شوالا 


سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے 
تر ے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے 
اپنوں سے برص رکھنا تو نے بتوں سے سکھاا 
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے 
تنگ آ کے مںک نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا 
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے 
پتھر کی مورتوں مںف سمجھا ہے تو خدا ہے 

لاہور و کراچی



لاہور و کراچی 


نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غور 
موت کال شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر 
ان شہدلوں کی دیت اہل کلسا  سے نہ مانگ 

ہندوستانی بچوں کا قومی گیت



ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

چشتی نے جس زمیں میں پغام حق سنایا 
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا 
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا 
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا 
مر ا وطن وہی ہے ، مرا وطن وہی ہے 
یونانیوں کو جس نے حیر ان کر دیا تھا 
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا 
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا 
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا 
مرکا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے 
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے 
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے 
وحدت کی لے سنی تھی دناھ نے جس مکاں سے 
مرد عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے 
مردا وطن وہی ہے، مرنا وطن وہی ہے 
بندے کلمر جس کے ، پربت جہاں کے سنا  
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا 
رفعت ہے جس زمں  کی بام فلک کا زینا 
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا مں  جناج 
مرتا وطن وہی ہے، مر ا وطن وہی ہے