Translate This Blog

+grab this

Wednesday, April 24, 2013

یہ جو چاہتوں کا سراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے


غزل


یہ جو چاہتوں کا سراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
یہ خمار مثلِ حَباب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
نہیں ماہتابِ چمن تو کیا، مجھے لذتِ شبِ تار کو
یہ چراغ ہے وہ سحاب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
رہِ دشتِ کرب و بلا کو اب ذرا دیکھ حدِ نگاہ تک
وہ جو دودِ رنگِ گلاب ہے ترا خوا ب ہے مرا خواب ہے
جو نفَس نفَس مری دھڑکنوں کے رَباب سے ہے ملا ہوا
جو سرورِ موجِ شراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
اُسے پڑھ کے ہی تو قلندروں کو شعورِ عشق و جنوں ملا
جو کتابِ دل کا نصاب ہے ترا خواب ہے مرا خوا ب ہے
یہ سفر بھی اے مرے ہم رکاب ! یہی سمجھ کے گزار دے
یہ جو دشت ہے یہ جو آب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
ترے سیلِ اشکِ رواں کو میں بھی تو اس لیے نہیں روکتا
تری چشمِ نم میں جو تاب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے



ذیشا ن حیدرؔ 
۱۸ اپریل ۲۰۱۳ 

Saturday, March 23, 2013

بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں


بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں

اک میٹھے میٹھے در دکی راحت کہاں سے لائیں

پیا م صبح 

ہرنئے دردکی پوشاک پہن لی میں نے


ہرنئے دردکی پوشاک پہن لی میں نے 
جاں مہذب نہ ہوئی تھی میں برہنہ کیسا

جاگ اٹھا میری انا کے زحم سے میرا شعور



جاگ اٹھا میری انا کے زحم سے میرا شعور
مجھ کو اپنی لغزشوں کے دکھ سے دانائی ملی

ہرفرداپنی خستہ کنی کی دکا ن ہے



ہرفرداپنی خستہ کنی کی دکا ن ہے 
شانوں پر سرہیں جیسے دکھوں کی پٹاریاں

اندرکاوہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی


اندرکاوہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی 
بنتا ہے زیادہ وہ سنورتا ہے زیادہ

تھوڑاساکہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی


تھوڑاساکہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی
موسم ہے کوئی خشک سا برسات سے آگے

سوچاتھا کہ جاں بیچ کے پھردردخریدیں


سوچاتھا کہ جاں بیچ کے پھردردخریدیں
ملتا نہیں بازارکی قیمت سے زیادہ

آخرتو مرے درد کا رشتہ دلوں سے ہے


آخرتو مرے درد کا رشتہ دلوں سے ہے 
چہرے نئے ہیں درد پرانے تلاش لوں

جس کو تم لادوابتاتے تھے


جس کو تم لادوابتاتے تھے
تم اسی درد کی دواٹھہرے

Thursday, March 21, 2013

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے




مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے 
نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے 
واعظ! کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد 
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبی بھی چھوڑ دے

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں




ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 
مری سادگی دیکھ کاا چاہتا ہوں 
ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی 
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں 

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی





ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی 
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی 
منصور کو ہوا لب گویا پاۂم موت 

عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب عداوت ہے اسے سارے جہاں سے





عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب 
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے 
کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں 
کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے 

نہ آتے ، ہمں اس مںف تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی



نہ آتے ، ہمں  اس مںف تکرار کیا  تھی 
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا  تھی 
تمھارے پاکمی نے سب راز کھولا 
خطا اس مںک بندے کی سرکار کیا  تھی 

Tuesday, March 19, 2013

گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چزا اسے بار بار دیکھ



غزلیات علامہ اقبال

گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چزا اسے بار بار دیکھ
آیا ہے تو جہاں مںل مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
مانا کہ ترای دید کے قابل نہںک ہوں مںک
تو مرکا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
کھولی ہں  ذوق دید نے آنکھںھ تری اگر
ہر رہ گزر مں  نقش کف پائے یار دیکھ

التجائے مسافر (بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی)



  
التجائے مسافر

(بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی) 


فرشتے پڑھتے ہںض جس کو وہ نام ہے تریا 
بڑی جناب تری، فضے عام ہے تریا 
ستارے عشق کے ترتی کشش سے ہں  قائم 
نظام مہر کی صورت نظام ہے تررا 
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی 
مسحم و خضر سے اونچا مقام ہے تررا 
نہاں ہے تریی محبت مںے رنگ محبوبی 
بڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تریا 
اگر ساےہ دلم، داغ لالہ زار تو ام 
و گر کشادہ جبینم، گل بہار تو ام 
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل 
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو 
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے 
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو 
نظر ہے ابر کرم پر ، درخت صحرا ہوں 
کار خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو 
فلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے مںو 
تری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو 
مقام ہم سفروں سے ہوا اس قدر آگے 
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو 
مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے 
کسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کو 
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر 
تری جناب سے ایی  ملے فغاں مجھ کو 
بنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس مںے نے 
چمن مںو پھر نظر آئے وہ آشاکں مجھ کو 
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبںے 
کار جنھوں نے محبت کا راز داں مجھ کو 
وہ شمع بارگہ خاندان مرتضوی 
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو 
نفس سے جس کے کھلی مر ی آرزو کی کلی 
بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو 
دعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمںے 
کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو 
وہ مرھا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشق 
ہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کو 
جلا کے جس کی محبت نے دفتر من و تو 
ہوائے عشس مں  پالا، کان جواں مجھ کو 
ریاض دہر مں  مانند گل رہے خنداں 
کہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو 
شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے! 
یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے! 

کنار راوی



کنار راوی 


سکوت شام مںا محو سرود ہے راوی 
نہ پوچھ مجھ سے جو ہے کتحو  مرے دل کی 
پا م سجدے کا یہ زیر و بم ہوا مجھ کو 
جہاں تمام سواد حرم ہوا مجھ کو 
سر کنارۂ آب رواں کھڑا ہوں مںہ 
خبر نہںو مجھے لکنڑ کہاں کھڑا ہوں مںک 
شراب سرخ سے رنگںی ہوا ہے دامن شام 
لےا ہے پرں فلک دست رعشہ دار مںھ جام 

بچّہ اور شمع



بچّہ اور شمع


کیّآ حربانی ہے یہ اے طفلک پروانہ خو! 
شمع کے شعلوں کو گھڑیوں دیکھتا رہتا ہے تو 
یہ مری آغوش مںا بٹھےس ہوئے جنبش ہے کار 
روشنی سے کاغ بغل گرںی ہے تر ا مدعا؟ 
اس نظارے سے ترا ننھا سا دل حر ان ہے 

ایک پرندہ اور جگنو




ایک پرندہ اور جگنو 


سر شام ایک مرغ نغمہ پرگا 
کسی ٹہنی پہ بٹھان گا رہا تھا 
چمکتی چزن اک دییھن زمں  پر 
اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر 
کہا جگنو نے او مرغ نوا ریز!