skip to main
|
skip to sidebar
Home
sitemap
A House of Urdu poetry,Urdu ghazals,Urdu nazm and hamd o naat
this is very nice poetry collection of selected famous and popular urdu poets
Home
gazal
Nazm
two lines
islamic poetry
Hamd o naat
Translate This Blog
BTSNTS
+grab this
!—please>
Saturday, March 23, 2013
ہرفرداپنی خستہ کنی کی دکا ن ہے
Saturday, March 23, 2013
danish
No comments
ہرفرداپنی خستہ کنی کی دکا ن ہے
شانوں پر سرہیں جیسے دکھوں کی پٹاریاں
Posted in:
درد بھری شاعری ،دوسطری شاعری
Email This
BlogThis!
Share to X
Share to Facebook
Newer Post
Older Post
Home
0 comments:
Post a Comment
Popular
Tags
Blog Archives
page no
dont copy
Translate This Blog
BTSNTS
+grab this
!—please>
Popular Posts
رخصت اے بزم جہاں ( ماخوذ از ایمرسن)
رخصت اے بزم جہاں ( ماخوذ از ایمرسن) رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں مںی آہ! اس آباد ویرانے مںت گھبراتا ہوں مں بسکہ...
جاگ اٹھا میری انا کے زحم سے میرا شعور
جاگ اٹھا میری انا کے زحم سے میرا شعور مجھ کو اپنی لغزشوں کے دکھ سے دانائی ملی
یہ جو چاہتوں کا سراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے
غزل یہ جو چاہتوں کا سراب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے یہ خمار مثلِ حَباب ہے ترا خواب ہے مرا خواب ہے نہیں ماہتابِ چمن تو کیا، مجھے ...
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ترانۂ ہندی سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلںں ہںد اس کی، یہ گلستاں ہمارا غربت مںں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن مںی ...
بچّہ اور شمع
بچّہ اور شمع کیّآ حربانی ہے یہ اے طفلک پروانہ خو! شمع کے شعلوں کو گھڑیوں دیکھتا رہتا ہے تو یہ مری آغوش مںا بٹھےس ہوئے جنبش ...
ایک گائے اور بکری
ایک گائے اور بکری (ماخوذ ) بچوں کے لےگ اک چراگہ ہری بھری تھی کہںج تھی سراپا بہار جس کی زمںن کای سماں اس بہار کا ہو بای...
تھوڑاساکہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی
تھوڑاساکہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی موسم ہے کوئی خشک سا برسات سے آگے
اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میراعلامہ اقبال علیہ الرحمۃ
اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میرا مجھے فکر جہاں کیوں ہو ، جہاں تیرا ہے یا میرا؟ اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی خطا ...
عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب عداوت ہے اسے سارے جہاں سے
عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب عداوت ہے اسے سارے جہاں سے کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے
داغ
داغ عظمت غالب ہے اک مدت سے پوپند زمیں مہدی مجروح ہے شہر خموشاں کا مکیں توڑ ڈالی موت نے غربت میں مناےئے امر چشم محفل ...
فانٹ ڈاؤن لوڈ کریں
فانٹ ڈاؤن لوڈ کریں
علوی نستعلیق
About Me
danish
View my complete profile
Blog Archive
▼
2013
(74)
►
April
(1)
▼
March
(73)
بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں
ہرنئے دردکی پوشاک پہن لی میں نے
جاگ اٹھا میری انا کے زحم سے میرا شعور
ہرفرداپنی خستہ کنی کی دکا ن ہے
اندرکاوہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی
تھوڑاساکہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی
سوچاتھا کہ جاں بیچ کے پھردردخریدیں
آخرتو مرے درد کا رشتہ دلوں سے ہے
جس کو تم لادوابتاتے تھے
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہ...
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کاا چاہ...
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دی...
عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب عداوت ہے اسے سارے جہ...
نہ آتے ، ہمں اس مںف تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے...
گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چز...
التجائے مسافر (بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی)
کنار راوی
بچّہ اور شمع
ایک پرندہ اور جگنو
ابر
داغ
نیا شوالا
لاہور و کراچی
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
مرنے ویرانے سے کوسوں دور ہے تر ا وطن
جا بسا مغرب مںب آخر اے مکاں تریا مکںن
نہںن منت کش تاب شند ن داستاں مرںی
مںل نے چاقو تجھ سے چھنار ہے تو چلاتا ہے تو
رخصت اے بزم جہاں ( ماخوذ از ایمرسن)
مضطرب رکھتا ہے مر ا دل بے تاب مجھے
قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل
قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں اعضائے قوم
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
عشق اور موت ( ماخو ذ از ٹی ہ سن)
پیا م صبح ( ماخوذ از لانگ فلو )
انسان اور بزم قدرت
ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا
سیدکی لوح تربت اے کہ تردا مرغ جاں تار نفس مںی ہے اسر
ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا
کس زباں سے اے گل پژمردہ تجھ کو گل کہوں
اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو
شورش مخاحنۂ انساں سے بالاتر ہے تو
دنا کی محفلوں سے اکتا گاا ہوں یا رب
بزم جہاں مںئ مںآ بیا ہوں اے شمع! دردمند
آفتاب
صدائے درد
عقل و دل
شمع و پروانہ
خفتگان خاک سے استفسار
پرندے کی فریاد
ماں کا خواب
ہمدردی ( ماخوذ از ولما کو پر ) بچوں کے لےخ
بچے کی دعا
ایک گائے اور بکری
ایک پہاڑ اور گلہری
ایک مکڑا اور مکھی
ہے بلندی سے فلک بوس نشمن مررا
مرزا غالب فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
عہد طفلی
گل رنگیں تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہںر
علاّمہ محمّد اقبال ہمالہاے ہمالہ! اے فصلص کشور ہن...
اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد
گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میراعلامہ اق...
عدالت
ابھی دریا میں پانی ہے
نعت
حمدوہ جوہر، جو رگِ جاں میں توانائی کا مظہر ہے
Labels
Allama Mohammad Iqbal
(3)
upon Allama Iqbal alrhma
(1)
ابر
(1)
ابھی دریا میں پانی ہے
(1)
التجائے مسافر (بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی)
(1)
ایک پرندہ اور جگنو
(1)
بچّہ اور شمع
(1)
بلال
(1)
جگنو
(1)
چاند
(1)
حمد
(1)
داغ
(1)
درد بھری شاعری ،دوسطری شاعری
(9)
ذیشا ن حیدرؔ
(1)
رفیع الدین راز
(1)
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
(1)
سر گزشت آدم
(1)
صبح کا ستارہ
(1)
عدالت
(1)
علامہ اقبال علیہ الرحمۃ
(38)
علاّمہ محمّد اقبال
(11)
غزلیات علامہ اقبال
(6)
کنار راوی
(1)
لاہور و کراچی
(1)
نالۂ فراق
(1)
نعت
(1)
نیا شوالا
(1)
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
(1)
Blog Archive
▼
2013
(74)
►
April
(1)
▼
March
(73)
بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں
ہرنئے دردکی پوشاک پہن لی میں نے
جاگ اٹھا میری انا کے زحم سے میرا شعور
ہرفرداپنی خستہ کنی کی دکا ن ہے
اندرکاوہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی
تھوڑاساکہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی
سوچاتھا کہ جاں بیچ کے پھردردخریدیں
آخرتو مرے درد کا رشتہ دلوں سے ہے
جس کو تم لادوابتاتے تھے
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہ...
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کاا چاہ...
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دی...
عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب عداوت ہے اسے سارے جہ...
نہ آتے ، ہمں اس مںف تکرار کیا تھی مگر وعدہ کرتے...
گلزار ہست و بود نہ بگاونہ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چز...
التجائے مسافر (بہ درگاہ حضرت محبوب الٰین، دہلی)
کنار راوی
بچّہ اور شمع
ایک پرندہ اور جگنو
ابر
داغ
نیا شوالا
لاہور و کراچی
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
لطف ہمساییھ شمس و قمر کو چھوڑوں
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن مںا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
مرنے ویرانے سے کوسوں دور ہے تر ا وطن
جا بسا مغرب مںب آخر اے مکاں تریا مکںن
نہںن منت کش تاب شند ن داستاں مرںی
مںل نے چاقو تجھ سے چھنار ہے تو چلاتا ہے تو
رخصت اے بزم جہاں ( ماخوذ از ایمرسن)
مضطرب رکھتا ہے مر ا دل بے تاب مجھے
قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل
قوم گویا جسم ہے ، افراد ہں اعضائے قوم
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
عشق اور موت ( ماخو ذ از ٹی ہ سن)
پیا م صبح ( ماخوذ از لانگ فلو )
انسان اور بزم قدرت
ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا
سیدکی لوح تربت اے کہ تردا مرغ جاں تار نفس مںی ہے اسر
ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا
کس زباں سے اے گل پژمردہ تجھ کو گل کہوں
اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو
شورش مخاحنۂ انساں سے بالاتر ہے تو
دنا کی محفلوں سے اکتا گاا ہوں یا رب
بزم جہاں مںئ مںآ بیا ہوں اے شمع! دردمند
آفتاب
صدائے درد
عقل و دل
شمع و پروانہ
خفتگان خاک سے استفسار
پرندے کی فریاد
ماں کا خواب
ہمدردی ( ماخوذ از ولما کو پر ) بچوں کے لےخ
بچے کی دعا
ایک گائے اور بکری
ایک پہاڑ اور گلہری
ایک مکڑا اور مکھی
ہے بلندی سے فلک بوس نشمن مررا
مرزا غالب فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
عہد طفلی
گل رنگیں تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہںر
علاّمہ محمّد اقبال ہمالہاے ہمالہ! اے فصلص کشور ہن...
اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد
گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میراعلامہ اق...
عدالت
ابھی دریا میں پانی ہے
نعت
حمدوہ جوہر، جو رگِ جاں میں توانائی کا مظہر ہے
0 comments:
Post a Comment