درد عشق
اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو
نامحرموں مں دیکھ نہ ہو آشکار تو
پنہاں تہ نقاب تری جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفل نو کی نگاہ ہے
آئی نئی ہوا چمن ہست و بود مں
اے درد عشق! اب نہںو لذت نمود مں
ہاں خود نمائولں کی تجھے جستجو نہ ہو
منت پذیر نالۂ بلبل کا تو نہ ہو!
خالی شراب عشق سے لالے کا جام ہو
پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
پنہاں درون سنہ کہںے راز ہو ترا
اشک جگر گداز نہ غماز ہو ترا
گویا زبان شاعر رنگںر با ں نہ ہو
آواز نے مںا شکوۂ فرقت نہاں نہ ہو
یہ دور نکتہ چں ہے ، کہںق چھپ کے بیٹھ رہ
جس دل مںر تو مکںں ہے، وہں چھپ کے بیٹھ رہ
غافل ہے تجھ سے حر ت علم آفریدہ دیکھ!
جویا نہں تری نگہ نارسد ہ دیکھ
رہنے دے جستجو مںں خالل بلند کو
حرنت مں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
جس کی بہار تو ہو یہ ایسا چمن نہںک
قابل تری نمود کے یہ انجمن نہںس
یہ انجمن ہے کشتۂ نظارۂ مجاز
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
ہر دل مے خا ل کی مستی سے چور ہے
کچھ اور آجکل کے کلمواں کا طور ہے






0 comments:
Post a Comment