ماہ نو
ٹوٹ کر خورشد کی کشتی ہوئی غرقاب نلا
ایک ٹکڑا ترشتا پھرتا ہے روئے آب نلح
طشت گردوں مںڑ ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب
نشتر قدرت نے کات کھولی ہے فصد آفتاب
چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی
نلخ کے پانی مںی یا مچھلی ہے سمر خام کی
قافلہ ترلا رواں بے منت بانگ درا
گوش انساں سن نہںر سکتا تری آواز پا
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو
ہے وطن ترنا کدھر ، کس دیس کو جاتا ہے تو
ساتھ اے ساےرۂ ثابت نما لے چل مجھے
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے
نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستی مںب مں
طفلک سمااب پا ہوں مکتب ہستی مںب مں






0 comments:
Post a Comment